LIVE
Loading Breaking News...

کراچی کو سندھ سے الگ صوبہ بنانے کی بحث اور غیر مہاجر تحفظات

News Image
کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بحث طویل عرصے سے جاری ہے لیکن اس کے پیچھے موجود پیچیدہ نسلی اور سیاسی حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا सकता۔ شہر کی نصف آبادی پر مشتمل غیر مہاجر کمیونٹیز اس تقسیم کی شدید مخالف ہیں کیونکہ انہیں ماضی کی نسلی کشیدگی کے دوبارہ سر اٹھانے کا اندیشہ ہے۔
کراچی کو سندھ کے صوبے سے الگ کرنے کا مباحثہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے قدیم ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔ ایک طرف جہاں پاکستان پیپلز پارٹی یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ کراچی سندھ کا دل ہے، وہیں دوسری طرف مہاجر برادری کی نمائندہ سیاسی جماعتیں بالخصوص متحدہ قومی موومنٹ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ سندھی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اس شہر کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں مہاجر آبادی کا ایک بڑا طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ کراچی کی حالت بہتر بنانے کا واحد حل اسے ایک الگ صوبہ بنانا یا وفاقی تحویل میں دینا ہے۔ تاہم سیاسی مبصرین اکثر اس تنازع کو صرف سندھی اور مہاجر کے مابین کشمکش کے طور پر دیکھتے ہیں، جو کہ ایک انتہائی سطحی نظریہ ہے۔ یہ زاویہ اس انتہائی اہم حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ کراچی میں لاکھوں ایسے غیر مہاجر شہری بھی مقیم ہیں جو اس شہر کی تقسیم کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ سنہ 2023 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق اگرچہ مہاجر برادری شہر کی سب سے بڑی একক برادری ہے لیکن پختون، سندھی، پنجابی، بلوچ، سرائیکی، ہندکو اور دیگر کمیونٹیز مل کر شہر کی آبادی کا نصف حصہ بناتی ہیں۔ اس کثیر النسلی پس منظر کی وجہ سے کراچی کی انتظامی حیثیت میں کسی بھی بڑی تبدیلی کا براہ راست اثر ان تمام کروڑوں باشندوں پر پڑتا ہے جو خود کو مہاجر نہیں بلکہ دیگر ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان غیر مہاجر برادریوں کے خدشات کی جڑیں ماضی کے ان تلخ تجربات میں پیوست ہیں جو انہوں نے اسیّ اور نوے کی دہائی کے دوران کراچی میں دیکھے تھے۔ شہر میں جاری رہنے والی لسانی و سیاسی کشمکش اور عسکریت پسندی کے باعث مختلف کمیونٹیز کے درمیان ٹرف وارز شروع ہوئیں، جن کے اثرات آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بازگشت سنائی دیتی ہے تو غیر مہاجر آبادی اسے کسی انتظامی بہتری کے بجائے ایک مخصوص نسلی بالادستی کی بحالی کی کوشش کے طور پر دیکھتی ہے۔ شہر میں آباد پختون برادری کو یہ خوف لاحق ہے کہ ایک علیحدہ انتظامی ڈھانچہ ان کے کاروبار اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ پنجابی آبادی بھی کسی ایک گروہ کے زیر اثر آنے والے حالات کو غیر محفوظ سمجھتی ہے۔ دوسری طرف سندھی آبادی کے لیے کراچی ان کے تاریخی صوبے کا اقتصادی اور سیاسی مرکز ہے، لہذا وہ اس تقسیم کو اپنی تاریخی شناخت پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے تحت اس قسم کے نعرے بلند کرتی ہیں تو عام عوام کا ردعمل انتہائی محتاط ہوتا ہے۔ سندھ حکومت بھی اس کثیر النسلی توازن کو بخوبی سمجھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حالیہ انتخابی معرکوں میں بھی پیپلز پارٹی نے اس تقسیم کی مخالفت کرنے والی غیر مہاجر آبادی کی حمایت کو کامیابی سے اپنے حق میں استعمال کیا۔ کراچی کے مستقبل کا فیصلہ اس شہر میں بسنے والی تمام قومیتوں کے باہمی اشتراک اور پائیدار امن کے بغیر ناممکن ہے۔