LIVE
Loading Breaking News...

غزة بے دخلی کے اسرائیلی بیانات پر آٹھ ممالک کا ردعمل

News Image
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی سے متعلق اسرائیلی وزراء کے بیانات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ امریکہ سمیت عالمی برادری نے بھی اس قسم کے خیالات اور منصوبوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی سے متعلق اسرائیلی وزراء کے متنازع اور اشتعال انگیز بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے اور پہلے سے متاثرہ خطے میں انسانی بحران کو مزید گہرا کرنے کے مترادف ہیں۔ دنیا بھر میں اس موقف پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب غزہ کے مکینوں اور فلسطینی قیادت نے بھی ان تمام تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن کا مقصد انہیں ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کرنا ہے۔ فلسطینی عوام کا عزم ہے کہ وہ اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھुकائیں گے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے عزائم دراصل خطے کی ڈیموگرافی کو تبدیل کرنے کی ایک سوچی سمچی سازش ہیں جنہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے بھی اسرائیلی وزراء کی جانب سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے خیالات پر کڑی تنقید کی ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ غزہ کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی مرضی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی کو زبردستی بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ عالمی برادری کا یہ متفقہ مؤقف ہے کہ دو ریاستی حل ہی اس طویل تنازعے کا واحد پائیدار اور منصفانہ حل ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم سفارتی سطح پر اس طرح کے بیانات کے خلاف شدید ردعمل نے اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ غزہ میں فوری طور پر مستقل جنگ بندی نافذ کی جائے اور انسانی امداد کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھا جائے تاکہ مزید جانی نقصان کو روکا جا سکے