World
ایران کی معاشی بحالی کی کوششیں اور جارحیت پر سخت ردعمل کی تنبیہ
ایرانی قیادت نے معاشی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جبکہ کسی بھی ممکنہ جارحیت پر شدید ترین ردعمل کی تنبیہ کی گئی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ آئندہ حملے پہلے سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوں گے۔
تہران: ایرانی حکام نے ملک کے داخلی معاشی مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ساتھ ہی عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے تناظر میں سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تہران کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور دردناک ہو گا۔ ایرانی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ملکی معیشت کو مستحکم کرنا اب اولین ترجیح بن چکا ہے تاکہ اندرونی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔
حالیہ دنوں میں ایرانی تیل کے ٹینکرز اور اہم تنصیبات پر ہونے والے مبینہ امریکی حملوں کے بعد تہران کا موقف انتہائی سخت ہو گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اب کھیل کے اصول بدل چکے ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب انتہائی بھاری اور تیز رفتار طریقے سے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے اور دشمنوں کو اس کا ادراک ہونا چاہیے۔
اس کے ساتھ ساتھ ایرانی حکومت اندرونی معیشت کو بحال کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہی ہے۔ ملک کو درپیش معاشی دباؤ کو کم کرنے کے لیے تجارتی راستوں کو وسعت دینے اور علاقائی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف جہاں ایران کو بیرونی سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، وہیں دوسری طرف عوام کی معاشی مشکلات کا ازالہ کرنا بھی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے۔
عالمی مبصرین اس صورتحال کو مشرق وسطیٰ میں ایک اور ممکنہ بحران کا پیش خیمہ قرار دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کر رہی ہیں تاکہ خطے میں مزید کشیدگی اور معاشی تباہی سے بچا جا سکے۔ تاہم، ایرانی قیادت کے سخت بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے۔