LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ایلچیوں کی یوکرین کے صدر زیلنسکی اور روس میں پوتن سے ملاقاتیں

News Image
امریکی ایلچیوں نے روس میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے بعد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے کیف میں اہم مذاکرات کیے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے حل اور سفارتی کوششوں کا ایک نیا سلسلہ ہے۔
امریکی سفارتی وفد نے روس میں صدر ولادیمیر پوتن سے اہم ملاقات کرنے کے بعد یوکرین کا رخ کیا ہے جہاں انہوں نے دارالحکومت کیف میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی ہے۔ اس سفارتی مشن کو یوکرین جنگ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کے دروازے کھولنا ہے۔ اس سے قبل ماسکو میں ہونے والی بات چیت کے حوالے سے کریملن کا کہنا تھا کہ امریکی ایلچیوں کے ساتھ مذاکرات مفید رہے، تاہم اس بات کا بھی اعتراف کیا گیا کہ فی الحال کسی بڑی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دیے ہیں۔ دوسری جانب، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے مغربی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کی جانب سے کسی بڑے حملے کے دعوے کی آڑ میں مزید اشتعال انگیزی کی گئی تو یہ ایک حقیقی جنگ کے آغاز کا باعث بن سکتی ہے۔ امریکی ایلچی وٹکوف اور کشنر کی قیادت میں جاری یہ سفارتی کوششیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ واشنگٹن اس طویل تنازع کے خاتمے کے لیے پس پردہ کوششوں کو تیز تر کر رہا ہے۔ یوکرینی قیادت بھی امریکی وفد کے ساتھ ہونے والی ان ملاقاتوں کو نہایت غور سے دیکھ رہی ہے کیونکہ جنگ کے میدان میں صورتحال تاحال کشیدہ بنی ہوئی ہے اور کسی بھی فوری امن معاہدے کی توقعات معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ان اعلیٰ سطحی رابطوں سے فوری طور پر امن قائم ہونے کی امید کم ہے، تاہم دونوں اطراف سے سفارتی چینلز کا کھلا رہنا مستقبل میں کسی پائیدار حل کی طرف پہلا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔