World
پاک سعودی وزرائے خارجہ کا رابطہ، باہمی امور پر تبادلہ خیال
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور سعودی وزیر خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور اور دوطرفہ تعلقات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت مکہ ڈیفنس الائنس کے حوالے سے طے پانے والے سمجھوتوں کے تسلسل میں سامنے آئی ہے۔
اسلام آباد: پاکستان کے نائب وزیراعظم اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ رابطہ حالیہ سفارتی مصروفیات کا حصہ ہے جس کا مقصد مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ یہ بات چیت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے پہلے مکہ ڈیفنس الائنس (Makkah Defence Alliance) کے اجلاس میں طے پانے والے مختلف نکات اور سمجھوتوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، حالیہ مہینوں میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تینوں ممالک نے حال ہی میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ایک سیکریٹریٹ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ عسکری تعاون کے عمل کو مزید مربوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔ اس سیکریٹریٹ کا قیام تینوں برادر اسلامی ممالک کے مابین دفاعی صلاحیتوں کو نکھارنے، عسکری تجربات کا تبادلہ کرنے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دفاعی اتحاد اور اسٹریٹجک شراکت داری سے خطے میں دفاعی توازن اور سلامتی کے حوالے سے نئے ابعاد سامنے آ رہے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان روایتی طور پر قریبی اور برادرانہ تعلقات رہے ہیں، جن میں حالیہ برسوں میں معاشی اور دفاعی تعاون کا عنصر مزید نمایاں ہوا ہے۔ نائب وزیراعظم اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان تازہ ترین رابطہ اس بات کا غماز ہے کہ دونوں ممالک تمام علاقائی و عالمی تبدیلیوں کے تناظر میں ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل مشاورت کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس اتحاد کے تحت مزید عملی اقدامات متوقع ہیں، جن سے نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب بلکہ ترکی کے ساتھ بھی سہ فریقی تعاون کو زمینی حقائق میں ڈھالا جائے گا۔ دونوں فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام اور باہمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا، اور اعلیٰ سطح کے رابطے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔