Pakistan
اسلام آباد میں نئے انتظامی نظام اور لوکل گورنمنٹ کی منظوری
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں طرزِ حکمرانی کو بہتر بنانے کے لیے نئے اور جامع مقامی حکومتوں کے نظام کی بازگشت شروع ہو گئی ہے۔ وفاقی کابینہ اور متعلقہ پارلیمانی کمیٹیوں نے اس حوالے سے اہم تجاویز اور بل کی منظوری دے دی ہے۔
اسلام آباد کے انتظامی اور سیاسی مستقبل کا معاملہ ایک اہم موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں وفاقی دارالحکومت میں حکمرانی کے ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے اسلام آباد کے لیے ایک نئے تین کونسلز پر مشتمل مقامی حکومتوں کے نظام کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد شہر کے انتظامی امور کو نچلی سطح پر زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ اس نئے سسٹم کے تحت دارالحکومت کے مختلف حصوں میں عوام کے مسائل کے فوری حل کے لیے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کیا جائے گا۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی ایک متعلقہ کمیٹی نے بھی اسلام آباد کے مقامی نظامِ حکمرانی میں اہم ترامیم لانے والے بل کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ مجوزہ تجاویز کے مطابق اسلام آباد کو ایک خودمختار وفاقی اکائی میں تبدیل کرنے کا مسودہ بھی سامنے آیا ہے جس میں ایک منتخب اسمبلی اور منتخب چیف ایگزیکٹو کی تقرری کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ اکائی کے لیے ستائیس رکنی اسمبلی تشکیل دینے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے جو وفاقی دارالحکومت کے انتظامی فیصلوں میں اہم کردار ادا کرے گی۔
منصوبہ بندی کی وزارت کی جانب سے بھی اس حوالے سے ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد اسلام آباد کے امور کو مزید شفاف اور عوامی امنگوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تمام تجاویز قانون کی شکل اختیار کر لیتی ہیں تو اس سے وفاقی دارالحکومت کے شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے ایک بہتر اور مضبوط پلیٹ فارم میسر آئے گا۔ شہریوں اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی اس نئے انتظامی ڈھانچے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ آنے والے وقت میں اسلام آباد کی بہتری کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔