World
ایرانی، ترک اور سعودی وزرائے خارجہ کی آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی پر اہم بات چیت
ایرانی، ترکی اور سعودی وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطوں میں آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ان سفارتی کوششوں کا مقصد مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام اور تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں، ایران، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطے ہوئے ہیں۔ ان اعلیٰ سطحی رابطوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا اور خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ علاقائی پیش رفت اور خطے کو جنگ و کشیدگی سے بچانے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں پر زور دیا۔
سعودی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو میں علاقائی استحکام اور ڈی ایسکلیشن (کشیدگی میں کمی) کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ خلیجی خطے اور اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں امن عالمگیر معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز کے تسلسل کے لیے ناگزیر ہے۔ تمام فریقین نے اس عزم کا اعظادہ کیا کہ تنازعات کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔
علاوہ ازیں، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ نے بھی خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا۔ اس سفارتی سرگرمی کا مقصد ایک ایسا مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے جس سے خطے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق، ان سفارتی رابطوں سے مشرق وسطیٰ کے نازک حالات میں بہتری آنے کی امید پیدا ہوئی ہے اور تمام ممالک علاقائی تعاون کو ترجیح دے رہے ہیں۔