LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کے گمنام اعترافات: فنکار کا منفرد پروجیکٹ سامنے آ گیا

News Image
ایک معروف فنکار نے گذشتہ ایک سال کے دوران مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے استعمال سے متعلق سینکڑوں گمنام راز اور اعترافات جمع کیے ہیں۔ اس انوکھے پروجیکٹ کا مقصد ٹیکنالوجی کے انسانی زندگی اور جذبات پر پڑنے والے گہرے اثرات کو سامنے لانا ہے۔
جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) نے انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی ہیں، مگر اس ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانوں کے تعلقات کس قدر گہرے اور بعض اوقات راز دارانہ ہو چکے ہیں، اس کا اندازہ اس انوکھے پروجیکٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک تخلیقی فنکار نے گذشتہ ایک سال کے دوران دنیا بھر سے سینکڑوں ایسے گمنام اعترافات جمع کیے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے گرد گھومتے ہیں۔ ان اعترافات میں عام لوگوں کی طرف سے اے آئی کے ساتھ اپنے پوشیدہ تجربات، جذباتی وابستگی اور مختلف راز شیئر کیے گئے ہیں۔ اس مہم کے خالق کا کہنا ہے کہ لوگ اب اے آئی کے ساتھ اس طرح بات چیت کر رہے ہیں جو وہ شاید اپنے کسی قریبی دوست یا رشتے دار سے بھی نہیں کر سکتے۔ یہ اعترافات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ انسان کس طرح ٹیکنالوجی پر تیزی سے انحصار کر رہا ہے اور اپنے تنہائی کے لمحات میں اے آئی کو ایک ہمدم کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ پروجیکٹ کے دوران جمع کی جانے والی کہانیاں اور اقرارنامے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت نے محض ایک آلے کی حیثیت سے آگے بڑھ کر انسانی نفسیات میں گہرا اثر ڈالا ہے۔ لوگ اس کے ذریعے اپنے خیالات کو تراشتے ہیں، اپنے راز بتاتے ہیں اور بعض اوقات زندگی کے مشکل فیصلوں میں اس سے مدد لیتے ہیں بغیر اس بات کی پرواہ کیے کہ یہ ایک مشین ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پروجیکٹ آنے والے وقت میں انسانی نفسیات اور مصنوعی ذہانت کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک اہم دستاویز ثابت ہوگا۔ جیسے جیسے اے آئی کی صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں، انسانوں اور مشینوں کے درمیان یہ جذباتی فاصلہ مزید کم ہوتا جا رہا ہے، جو کہ ایک نئے سماجی اور نفسیاتی دور کی شروعات ہے۔