World
جرمنی: انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی جماعت کی مشرقی ریاست میں تاریخی برتری
جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت اے ایف ڈی نے مشرقی ریاست کے انتخابات میں تاریخی فتح کا دعویٰ کیا ہے۔ ایگزٹ پولز کے مطابق یہ جماعت دوسرے نمبر پر موجود حریف جماعت سے کہیں آگے نکل گئی ہے۔
جرمنی کی سیاست میں ایک نیا موڑ اس وقت سامنے آیا جب ملک کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'اے ایف ڈی' نے مشرقی ریاست کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کرنے کا اشارہ دیا۔ ابتدائی ایگزٹ پولز کے نتائج کے مطابق، اس جماعت کو 44.5 فیصد تک ووٹ ملنے کی توقع ہے، جو کہ جرمنی کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک انتہائی ڈرامائی اور بڑا رجحان سمجھا جا رہا ہے۔ اس زبردست کارکردگی کے بعد جماعت کے رہنماؤں نے اسے ایک تاریخی اور ناقابل یقین نتیجہ قرار دیا ہے۔
اس انتخابی دوڑ میں اے ایف ڈی کے بعد قدامت پسند جماعت سی ڈی یو دوسرے نمبر پر ہے، جسے تقریباً 18.5 فیصد ووٹ ملنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے ووٹ بینک میں واضح اور بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے روایتی سیاسی جماعتوں سے ہٹ کر دائیں بازو کے نظریات کی حمایت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نتائج نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ ملکی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کریں گے۔
جرمن سیاسی پنڈتوں کے مطابق، اس طرح کے نتائج روایتی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہیں جو ملک میں بڑھتے ہوئے عوامی مسائل اور مہنگائی جیسے امور سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انتہائی دائیں بازو کی اس جماعت کی پالیسیوں اور بیانیے نے خاص طور پر مشرقی جرمنی کے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، جہاں لوگوں میں معاشی اور سماجی تحفظ کے حوالے سے گہرے خدشات پائے جاتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں جب حتمی اور سرکاری نتائج سامنے آئیں گے تو اس کے بعد حکومت سازی کے مراحل اور دیگر سیاسی اتحادوں پر بھی بحث شروع ہوگی۔ تاہم، فی الحال اس انتخابی نتیجے نے پورے ملک میں ہلچل مچا دی ہے اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ بھی اس طرف مبذول ہو چکی ہے، کیونکہ یورپ بھر میں دائیں بازو کی سیاست تیزی سے ابھرتی ہوئی ایک بڑی حقیقت بنتی جا رہی ہے۔