LIVE
Loading Breaking News...

خالد عبداللہ کا انٹرویو: شناخت، فن اور غزہ پر مؤقف

News Image
معروف اداکار خالد عبداللہ نے اپنے فنی سفر، شناخت اور غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے خلاف کھل کر بات کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے ان تمام تجربات کا ذکر کیا جنہوں نے بحیثیت انسان اور فنکار ان کی شخصیت کو تشکیل دیا۔
معروف اداکار خالد عبداللہ نے हाल ہی میں اپنے ایک انٹرویو کے دوران اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے لیے یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ ہمیشہ انصاف کی خدمت میں پیش پیش رہیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر، ذاتی شناخت اور دنیا بھر میں جاری ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کی۔ خالد عبداللہ کا کہنا تھا کہ ایک فنکار ہونے کے ناطے ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خاموش نہ رہیں اور سچائی کا ساتھ دیں۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کے خلاف کھل کر بات کرنے کے اپنے فیصلے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشکل وقت میں بھی مظلوموں کی حمایت کرنا اور دنیا کے سامنے حقائق رکھنا ہر باضمیر انسان بالخصوص عوامی شخصیات کا فرض ہے۔ ان کے مطابق، فن اور سیاست کو الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فنکار بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں اور وہ دنیا کے دکھ درد سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ خالد عبداللہ نے ان تمام ذاتی اور پیشہ ورانہ تجربات کا بھی ذکر کیا جنہوں نے بحیثیتِ انسان اور ایک اداکار کے ان کی شخصیت کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی خاندانی جڑیں اور ثقافتی پس منظر نے انہیں ہمیشہ سچ کا ساتھ دینے اور انسانی اقدار کی پاسداری کرنے کی تلقین کی ہے۔ ان کے خیالات کو دنیا بھر کے شائقین اور انسانی حقوق کے حامیوں کی طرف سے سراہا جا رہا ہے۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر فنکار برادری بھی دنیا کے اہم سیاسی اور انسانی مسائل پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہے۔ خالد عبداللہ کا مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فن صرف تفریح کا نام نہیں بلکہ یہ معاشرتی تبدیلی اور انصاف کی آواز بلند کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ بھی ہے۔ ان کا یہ انٹرویو نا صرف ان کے مداحوں کے لیے بلکہ پوری فلمی صنعت کے لیے ایک اہم پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔