World
چین اور نیپال سیلاب: ہزاروں افراد اب بھی لاپتہ، امدادی کارروائیاں جاری
چین اور نیپال میں آنے والے شدید سیلاب کے بارہ روز بعد بھی پانچ ہزار پانچ سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں دن رات ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
چین اور نیپال میں حال ہی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد بارہ روز گزر جانے کے باوجود صورتحال تاحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک میں ریسکیو اور سرچ آپریشنز پوری رفتار سے جاری ہیں، لیکن اس کے باوجود اب بھی پانچ ہزار پانچ سو سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ ان لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے زمین اور فضا دونوں ذرائع سے امدادی کارروائیاں کی جا رہی ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو کسی حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے۔متاثرہ علاقوں میں سیلابی ریلوں نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو دور دراز اور پہاڑی علاقوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہو چکا ہے۔ حکام کے مطابق، ریسکیو ورکرز اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے ملبے تلے دبے لوگوں اور پانی میں بہہ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امیدیں مدھم پڑتی جا رہی ہیں۔دوسری جانب، دونوں ممالک کی حکومتوں نے متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور انہیں عارضی پناہ گاہیں فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ طبی ٹیمیں بھی فیلڈ اسپتالوں میں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ وبائی امراض سے بچاؤ کے لیے بروقت اقدامات کیے جا سکیں اور زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ عالمی برادری نے بھی اس انسانی المیے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور امدادی سرگرمیوں میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدرتی آفت کے دیرپا اثرات سے نکلنے میں دونوں ممالک کو ایک طویل عرصہ درکار ہوگا، جبکہ اس وقت اولین ترجیح لاپتہ افراد کی تلاش اور متاثرین کی فوری امداد ہے۔