LIVE
Loading Breaking News...

یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی اور فوجی پیشرفت

News Image
یمنی سرکاری افواج نے حوثیوں کے خلاف حالیہ جھڑپوں میں اہم فوجی کامیابیاں حاصل کی ہیں جس سے ملک میں ایک بار پھر مکمل جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال نے سکیورٹی کے امور پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یمنی حکومت کی افواج نے حوثیوں کے خلاف جاری لڑائی میں اہم عسکری کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس نے ملک کو ایک بار پھر طویل المدتی اور مکمل جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ فریقین کے درمیان زمینی محاذوں پر جھڑپیں اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب حکومتی دستوں نے حکمت عملی کے تحت اہم اور تزویراتی مقامات کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پیشقدمی کی۔ اس صورتحال نے ملک بھر میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے اور عام شہریوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کہیں یہ جھڑپیں ملک کو دوبارہ تباہ کن خانہ جنگی کی طرف نہ دھکیل دیں۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ ان عسکری کامیابیوں سے حکومتی عزم کا اظہار ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی امن مذاکرات کی تمام تر کوششوں کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔ دونوں فریقوں کے مابین اعتماد کا فقدان پہلے ہی اپنی انتہا پر تھا اور حالیہ کشیدگی نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور علاقائی طاقتیں اس پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ کسی بھی بڑی جنگ کے خطے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن میں انسانی المیے کا دوبارہ سر اٹھانا بھی شامل ہے۔ زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یمن میں پائیدار امن کی راہ میں حائل رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں۔ ایک طرف یمنی حکومت اپنی حاکمیت بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے تو دوسری طرف حوثی باغی بھی کسی بھی قسم کے پسپائی کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ آنے والے دنوں میں اگر سفارتی کوششوں کو تیز نہ کیا گیا تو یہ فوجی پیشرفت ایک بڑی خونریز جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے خطے کا امن اور استحکام براہ راست خطرے میں پڑ جائے گا۔