World
پاکستان نے تباہ کن سیلاب زدگان کے لیے نیپال امداد روانہ کر دی
پاکستان نے نیپال میں حالیہ ہلاکت خیز سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کے بعد متاثرین کی مدد کے لیے ایک سو ٹن انسانی امداد روانہ کر دی ہے۔ این ڈی ایم اے کے تحت بھیجے گئے اس امدادی سامان میں خیمے، کمبل، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں۔
پاکستان نے اتوار کے روز نیپال میں حالیہ ہلاکت خیز سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد امدادی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے ایک سو ٹن انسانی امداد روانہ کی ہے۔ چین اور نیپال کے سرحدی علاقے میں گلیشیر اور پہاڑ گرنے کے اس واقعے کے نتیجے میں دونوں ممالک میں کم از کم ایک ہزار تین سو چوراسی افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ پانچ ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ نیپال میں امدادی کارکنوں نے اب تک ایک ہزار تین سو اکتالیس لاشیں نکال لی ہیں جبکہ تقریباً چار ہزار نو سو چھیانوبے افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال کے لیے پاکستان کی جانب سے اس انسانی امداد کو نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے زیر اہتمام اسلام آباد سے کھٹمنڈو کے لیے ایک چارٹرڈ پرواز کے ذریعے روانہ کیا گیا، جس کی تصدیق دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کی گئی ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اس امدادی کھیپ میں متاثرہ کمیونٹیز کے لیے خیمے، کمبل، چٹائیاں، ہائیجین کٹس اور ادویات شامل ہیں۔ انسانی امداد کی روانگی کے حوالے سے اسلام آباد ہوائی اڈے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری، نیپال کی سفیر ریٹا دھیتل کے علاوہ دفتر خارجہ اور این ڈی ایم اے کے سینئر حکام نے شرکت کی۔ دفتر خارجہ نے اس موقع پر کہا کہ یہ امداد مشکل وقت میں حکومت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کی عکاس ہے۔ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس پیشرفت کا اشتراک کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خیالات اور دعائیں سوگوار خاندانوں اور متاثرہ افراد کے ساتھ ہیں۔ نیپال میں اتوار کے روز تباہ کن سیلاب کے بعد تلاشی کی کارروائیاں بارہویں روز میں داخل ہو گئی ہیں جہاں امدادی کارکنوں کو مشکل ترین حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم اس کے باوجود چار معجزاتی طور پر زندہ بچ جانے والوں کی تلاش سے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ہائیڈرو پاور ٹنلز اور مٹی کے تلے دبے گھروں سے لوگوں کو زندہ نکالنے کے لیے شدید موسمی حالات اور جغرافیائی مشکلات کے باوجود ریسکیو آپریشنز تاحال جاری ہیں۔ نیپالی وزیر اعظم اور دیگر حکام نے اس تباہی کو ہمالیائی سونامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بحالی کے اخراجات اربوں ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے بھی تباہی کے اس بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی کو ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے اور متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اپیل جاری کی ہے۔ نیپال میں متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی اور متاثرین کی امداد کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے جبکہ اس قدرتی آفت کے تناظر میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر بھی عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔