LIVE
Loading Breaking News...

عظمیٰ بخاری کی سیکورٹی کے معاملے پر اہم پیش رفت اور خدشات

News Image
پنجاب کی اطلاعات و ثقافت کی وزیر عظمیٰ بخاری کی سیکورٹی کے حوالے سے شدید خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ یہ صورتحال کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک سخت بیان کے بعد پیدا ہوئی ہے۔
لاہور: پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کی سیکورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدہ نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ یہ تازہ ترین صورتحال کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک انتہائی سخت اور جارحانہ بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، صوبائی وزیر کے لیے سیکورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ واضح رہے کہ عظمیٰ بخاری صوبائی حکومت کی ایک نمایاں ترجمان ہیں اور وہ اکثر اہم سیاسی اور انتظامی امور پر میڈیا کے سامنے حکومت کا مؤقف بڑی جرأت اور واشگاف الفاظ میں رکھتی چلی آ رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں بعض حساس معاملات پر ان کے بیانات کے بعد سیاسی و مذہبی تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی پس منظر میں کالعدم تنظیم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کو انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد حکومتی اور انتظامی سطح پر سیکورٹی کے معاملات کا از سر نو جائزہ لینا شروع کر دیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب اور دیگر متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس معاملے پر خصوصی ہدایات جاری کیے جانے کا امکان ہے تاکہ صوبائی وزیر کی نقل و حرکت کے دوران فول پروف سیکورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو واضح احکامات دیے ہیں کہ عوامی شخصیات اور وزراء کی جان و مال کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین نے بھی اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ریاست کو ایسے تمام عناصر پر کڑی نظر رکھنی چاہیے جو عوامی نمائندوں اور سرکاری عہدیداروں کے خلاف دھمکی آمیز رویہ اپناتے ہیں۔ دریں اثنا، عظمیٰ بخاری کے حامیوں اور حکومتی جماعت کے رہنماؤں کی طرف سے بھی اس بیان کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور وہ حکومت سے پرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر اطلاعات کو درپیش خطرات کے تناظر میں سیکورٹی حصار کو مزید غیر معمولی بنایا جائے۔