World
بھارت میں صدی پرانی مسجد کی مسماری، پاکستان کا شدید ردعمل
پاکستان نے بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ایک صدی پرانی تاریخی مسجد کو پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں مسمار کرنے کے واقعے پر شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان کے مذہبی مقامات پر حملوں کا نوٹس لے۔
اسلام آباد (نیزورا نیوز اردو) پاکستان نے بھارت کی ریاست اتر پردیش میں ایک صدی پرانی تاریخی مسجد کو پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں مسمار کیے جانے کے واقعے پر شدید ترین تشویش اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور ان کی شناخت کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کا تسلسل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی نے ایک بار پھر بھارتی حکام کے دعوؤں اور دعویدار سیکولرازم کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے جہاں اقلیتیں خود کو انتہائی غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔
دفتر خارجہ کے بیان میں یاد دلایا گیا کہ دسمبر 1992 میں بابری مسجد کی تاریخی مسماری کے بعد سے لے کر اب تک بھارت میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات پر حملوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ واقعے میں اتر پردیش انتظامیہ کی جانب سے انتہائی عجلت اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے صدی پرانی مسجد کو گرایا گیا، جس کے خلاف مقامی سطح پر بھی شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اقوام متحدہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لیں تاکہ بھارت میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف بھارت کے اپنے آئین اور دعوؤں کے خلاف ہیں بلکہ یہ خطے میں مذہبی ہم آہنگی اور امن کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اقلیتوں کے مذہبی حقوق کا احترام کرے اور اس قسم کی قانون شکنی اور امتیازی سلوک کو فی الفور روکے۔ حکومتِ پاکستان کا یہ موقف ہے کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف جاری اس پرتشدد مہم کو اب مزید نظر انداز نہیں کیا جا सकता اور اس پر عالمی سطح پر آواز اٹھانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔