World
امریکہ ایران کشیدگی: تہران کی جانب سے سخت فوجی ردعمل کی دھمکی
ایرانی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حملے اور ناکہ بندی جاری رہی تو تہران کی جانب سے زیادہ تیز اور دردناک فوجی جواب دیا جائے گا۔ ایران نے اس تنازع کے دوران معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ ملکی دفاع کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جب امریکہ کی جانب سے مبینہ طور پر ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور خطے میں سخت ناکہ بندی برقرار رکھی گئی۔ ان تمام تر امریکی اقدامات کے جواب میں ایرانی عسکری اور سیاسی قیادت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے جارحانہ کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو تہران کی طرف سے ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز، بھاری اور دردناک فوجی جواب دیا جائے گا۔ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ایران کے اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ ملک کو درپیش معاشی چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ امریکی پابندیاں اور ناکہ بندی خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہیں، جس سے عالمی منڈی میں بھی عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سمیت دیگر اہم رہنماؤں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کی سالمیت کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا خمیازہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھاری نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں فی الحال سست روی کا شکار ہیں، جس سے خطے میں مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔