World
الخلیل کے کسانوں کی زمین اور مال مویشی بچانے کی جدوجہد
مغربی کنارے کے کسان روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں، بھیڑوں کی چوری اور فوجی پابندیوں کا بہادری سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ اس کٹھن صورتحال میں بھی وہ اپنی زرعی زمینوں اور مال مویشیوں کا تحفظ یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
مغربی کنارے کے علاقے الخلیل میں فلسطینی کسان بے پناہ مشکلات اور چیلنجز کے باوجود اپنی زرعی زمینوں، فصلوں اور مال مویشیوں کو بچانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور روزمرہ کی بنیاد پر ہونے والے حملوں نے مقامی کسانوں کی زندگی کو انتہائی اجیرن بنا دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔
رپورٹس کے مطابق کسانوں کو نہ صرف اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے آئے روز کے حملوں اور ہراساں کیے جانے کا سامنا ہے، بلکہ ان کے قیمتی مال مویشیوں بالخصوص بھیڑوں کی چوری کے واقعات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں سخت فوجی پابندیوں اور نقل و حرکت پر عائد سختیوں نے کسانوں کے لیے اپنی زمینوں تک رسائی حاصل کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ان تمام تر رکاوٹوں اور خطرات کے باوجود الخلیل کے باہمت کسان اپنی مٹی سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر ممکن طریقے سے اپنی فصلوں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ زمینوں کی حفاظت کے لیے یہ کسان باہمی تعاون کی فضا قائم کیے ہوئے ہیں تاکہ بیرونی جارحیت کا مقابلہ کیا جا سکے اور اپنے روزگار کے واحد ذریعے کو بچایا جا سکے۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی زرعی اداروں نے کسانوں کی اس جرأت مندانہ جدوجہد کو سراہتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فلسطینی کسانوں کو ان کے بنیادی حقوق اور تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ پُرامن طریقے سے اپنی روزی روٹی کما سکیں۔