World
امریکی وزیر توانائی کا بیان: ایران جوہری معاہدے پر خدشات کا اظہار
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے اشارہ دیا ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی نئے جوہری معاہدے کے امکانات اب مدہم پڑ رہے ہیں۔ اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کے نومنتخب اور موجودہ حکومتی حلقوں کی جانب سے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات اور جوہری معاہدے کے حوالے سے مایوس کن بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ حال ہی میں امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ کوئی نیا جوہری معاہدہ طے نہ پا سکے۔ ان کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر چہ مگوئیوں کو جنم دے دیا ہے اور تجزیہ کار یہ سمجھ رہے ہیں کہ واشنگٹن میں تہران کے ساتھ سفارتی پیش رفت کی امیدیں اب تیزی سے ماند پڑ رہی ہیں۔ کرس رائٹ کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے مابین ماضی کے معاہدے کے خاتمے کے بعد سے کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے جڑے معاملات پر موجودہ حالات میں کسی متفقہ اور پائیدار حل تک پہنچنا انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق واشنگٹن کا یہ موقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران پر اقتصادی دباؤ برقرار رکھا جا سکتا ہے اور سفارتی ذرائع سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع فی الحال نہیں کی جا رہی۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری اور خطے کے دیگر ممالک اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا براہ راست اثر خطے کے امن اور استحکام پر پڑتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں مختلف ممالک کی جانب سے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم موجودہ بیانات نے ظاہر کر دیا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیج کو پاٹنا فی الحال ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکی پالیسی میں اس حوالے سے کیا مزید تبدیلیاں آتی ہیں اور آیا ایران اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔