LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر پنجاب سے گرفتار، سیاسی انتقام قرار

News Image
پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے رہنما حماد اظہر کو پنجاب سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پارٹی نے اس اقدام کو بدترین سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اتوار کے روز دعویٰ کیا ہے کہ ان کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پارٹی نے اس کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے سیاسی انتقام اور فاشزم کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر حماد اظہر کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہے تو انہیں فوری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے اور ان کے تمام قانونی و بنیادی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس گرفتاری کے حوالے سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ہے۔ ملتان کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) عثمان اکرم گوندل نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ انہیں اس مبینہ گرفتاری کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہیں۔ اسی طرح لاہور انویسٹی گیشن کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) محمد نوید نے بھی تصدیق کی کہ انہیں حماد اظہر کی گرفتاری یا انہیں لاہور پولیس کے حوالے کرنے سے متعلق کوئی خبر موصول نہیں ہوئی ہے۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما کو ملتان سے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کے ایک مقدمے کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ انہیں لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں بشمول عمر ایوب اور مونس الہیٰ نے بھی اس گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ عمر ایوب نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اس کا مقصد 27 ستمبر کو پارٹی کی جانب سے نکالے جانے والے مارچ کو ناکام بنانا ہے۔ یاد رہے کہ حماد اظہر 9 مئی کے واقعات کے بعد منظر عام سے ہٹ گئے تھے اور طویل عرصے تک رو پوش رہنے کے بعد گزشتہ برس مئی میں دوبارہ منظر عام پر آئے تھے۔ پی ٹی آئی نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔