Pakistan
پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیلِ نو اور نئے صوبوں پر بحث
موجودہ انتظامی ڈھانچے کی تشکیل نو کے حوالے سے بحث میں تیزی آ گئی ہے جبکہ نئے صوبوں کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے ملک بھر میں بارہ سے پندرہ نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔
اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملک کے موجودہ انتظامی اور صوبائی ڈھانچے کی تشکیلِ نو کے حوالے سے سیاسی اور انتظامی حلقوں میں چہ مہ گوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کے بعض بااثر اور طاقتور حلقے اس بات کے حامی ہیں کہ پاکستان کے موجودہ انتظامی نظام کو زیادہ مؤثر اور بہتر بنایا جائے تاکہ عوامی مسائل کو نچلی سطح پر حل کیا جا سکے۔ اس ضمن میں بحث نے اگرچہ رفتہ رفتہ زور پکڑ لیا ہے تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مباحث تاحال غیر رسمی نوعیت کے ہی ہیں۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اس تمام معاملے پر تاحال نئے صوبوں کی تعداد، ان کی جغرافیائی حدود یا کسی بھی حتمی سرحد کے تعین کے بارے میں کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے درمیان اس موضوع پر ابتدائی غوروخوض جاری ہے تاکہ تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔ انتظامی بہتری اور گورننس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس قسم کی تجاویز پر ماضی میں بھی بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن اب اس میں نئی پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر احسن اقبال نے حال ہی میں ایک اہم بیان میں ملک کے اندر بارہ سے پندرہ نئے صوبے تخلیق کرنے کی تجویز سامنے رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہتر انتظامی کنٹرول اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے صوبائی ڈھانچے کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ تاہم سیاسی جماعتوں کے درمیان اس تجویز پر مکمل اتفاق رائے کا فقدان ہے کیونکہ ہر فریق کے اپنے سیاسی اور علاقائی مفادات وابستہ ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانا پاکستان کی طویل مدتی ترقی کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے آئینی طریقہ کار اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان گہرے اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مزید مباحثے متوقع ہیں جن سے اس اہم قومی مسئلے کی اگلی سمت کا تعین ہوگا۔