LIVE
Loading Breaking News...

ٹک کے ذریعے پھیلنے والا نیا وائرس، طبی ماہرین کی تشویش

News Image
ماہرین صحت نے ایک ایسے نئے وائرس کی نشاندہی کی ہے جو ٹک (کیڑے) کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اس وائرس کے شکار مریضوں میں فلو جیسی علامات دیکھی گئی ہیں جن کی تشخیص تاحال ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔
دنیا بھر میں طبی سائنسدانوں نے ایک ایسے نئے وائرس کی دریافت کی ہے جو ٹک (Tick) نامی کیڑے کے کاٹنے سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس وائرس کے متاثرہ مریضوں میں فلو جیسی علامات نمایاں ہوتی ہیں، تاہم ان علامات کو کسی عام وائرل انفیکشن سے مماثلت ہونے کی وجہ سے تشخیص کرنا کافی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت عوامی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ یہ بیماری اب تک نامعلوم اور غیر تشخیص شدہ علامات کے زمرے میں آ رہی تھی۔ ابتدائی طبی مشاہدات کے مطابق اس وائرس کا پھیلاؤ خاص طور پر ان علاقوں میں زیادہ ہو سکتا ہے جہاں جنگلی حیات اور ٹک کیڑے کی بہتات ہے۔ محققین اس وائرس کے جینیاتی ڈھانچے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس کے علاج اور انسداد کے لیے ویکسین یا ادویات تیار کی جا سکیں۔ ڈاکٹروں نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ جنگلات یا گھاس دار علاقوں میں جاتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ اس قسم کے کیڑوں کے کاٹنے سے بچا جا سکے۔ اگر کسی شخص کو بخار، جسم میں درد یا نزلہ زکام کی علامات ظاہر ہوں جو طویل عرصے تک برقرار رہیں، تو اسے فوری طور پر کسی مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ فی الحال یہ وائرس کتنی شدت کا حامل ہے اور اس کے طویل مدتی اثرات کیا ہو سکتے ہیں، اس بارے میں مزید تحقیق جاری ہے۔ سائنسدانوں کی ایک ٹیم اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ آیا یہ وائرس دیگر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے یا نہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے بھی اس قسم کے نئے سامنے آنے والے وائرسوں کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بڑی وبائی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے حکمت عملی وضع کی جا سکے۔