LIVE
Loading Breaking News...

اخبارات کا اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ پر اے آئی ٹریننگ کے خلاف مقدمہ

News Image
مختلف اخبارات کی جانب سے معروف ٹیکنالوجی کمپنیوں اوپن اے آئی اور مائیکروسافٹ کے خلاف مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ یہ مقدمات بغیر اجازت کے آرٹیکلز اور مواد کو مصنوعی ذہانت کی ٹریننگ کے لیے استعمال کرنے پر بنائے گئے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا انڈسٹری میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب متعدد معروف اخبارات نے مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں اوپن اے آئی (OpenAI) اور مائیکروسافٹ (Microsoft) کے خلاف عدالتوں کا رخ کر لیا ہے۔ ان اداروں کا مؤقف ہے کہ ان کمپنیوں نے بغیر کسی باقاعدہ اجازت یا لائسنس کے ان کے کاپی رائٹ شدہ مواد، خبروں اور مضامین کو اپنے جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس اقدام کو ڈیجیٹل دور میں صحافتی حقوق اور املاکِ دانش کی خلاف ورزی کی ایک بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ مقدمے کی تفصیلات کے مطابق، اخبارات کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تخلیق کاروں کی سالوں کی محنت اور تحقیق کو بغیر کسی معاوضے کے اے آئی سسٹمز کی بہتری کے لیے کھاد کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف روایتی صحافت کے معاشی ماڈل کو شدید خطرات لاحق ہیں بلکہ یہ کاپی رائٹ قوانین کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔ کمپنیاں اس ڈیٹا کو استعمال کرکے ایسے چیٹ بوٹس اور سرچ ٹولز بنا رہی ہیں جو اصل خبروں کا متبادل بنتے جا رہے ہیں، جس سے اخبارات کی ویب سائٹس پر ٹریفک اور آمدنی دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی ماہرین اور قانون دان اس قانونی جنگ کو آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کی صنعت کے لیے ایک اہم موڑ قرار دے رہے ہیں۔ اگر عدالتیں اخبارات کے حق میں فیصلہ دیتی ہیں تو اس سے اے آئی کمپنیوں کو اپنے ماڈلز کی ٹریننگ کے لیے مواد کے حصول کے طریقوں کو یکسر بدلنا پڑے گا اور انہیں میڈیا ہاؤسز کو اربوں ڈالر کی رائلٹی یا لائسنسنگ فیس ادا کرنا ہوگی۔ یہ مقدمہ اس طویل بحث کا بھی حصہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں کاپی رائٹ کے قوانین کو نئی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے تناظر میں کیسے نافذ کیا جائے۔