LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ انتظامیہ کا سپریم کورٹ سے پوسٹل ووٹنگ رول بحال کرنے کا مطالبہ

News Image
ٹرمپ انتظامیہ نے مڈٹرم انتخابات سے پہلے پوسٹل ووٹنگ کو محدود کرنے والے ایگزیکٹو آرڈر پر عدالتی پابندی ختم کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے۔ اس معاملے پر ملک بھر میں سیاسی اور قانونی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
امریکی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے ملک کے وسط مدتی انتخابات (مڈٹرم الیکشنز) سے قبل ایک متنازعہ میل ان بیلٹ رول کی اجازت حاصل کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے باضابطہ طور پر رجوع کر لیا ہے۔ اس قانونی اقدام کا بنیادی مقصد پوسٹل ووٹنگ کے طریقہ کار کو محدود کرنا ہے، جسے انتظامیہ کی طرف سے انتخابات میں شفافیت اور نظم و ضبط کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف، وفاقی عدالت نے اس سے قبل انتظامیہ کے اس متنازعہ ایگزیکٹو آرڈر پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے خلاف اب اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کی گئی ہے۔ اس صورتحال نے ملک بھر کے انتخابیحلقوں اور سیاسی تجزیہ کاروں میں نئی بحث چھڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس معاملے پر وِسْل بلورز اور ناقدین کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام عدالتی احکامات کی مبینہ طور پر خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے رائے دہندگان کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں اور انتخابات کے عمل پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس فیصلے کو نافذ کرنے کے لیے کوششیں تیزی سے جاری ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آنے والے مڈٹرم انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ پوسٹل ووٹنگ کا یہ تنازعہ امریکہ میں انتخابی اصلاحات اور قانونی حدود کے تناظر میں ایک مرکزی بحث بن چکا ہے، اور دونوں جانب سے دلائل کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے۔