Pakistan
سرکاری ہسپتالوں میں مستقل ملازمتیں ختم کرنے کی تجویز
پاکستان کے وزیر صحت نے حالیہ تباہ کن آتشزدگی کے واقعے کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں مستقل ملازمتیں ختم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس سانحے کے دوران ایک نہایت بہادر نرس نے نومولود بچے کی جان بچائی تھی جس پر وزیراعظم نے اسے انعام سے نوازا۔
اسلام آباد میں سرکاری ہسپتال کے اندر پیش آنے والے ایک افسوسناک اور تباہ کن آتشزدگی کے واقعے کے بعد ملک کے صحت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات اور تبدیلیوں پر غور شروع ہو چکا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کے وزیر صحت کی جانب سے ایک انتہائی اہم تجویز سامنے آئی ہے جس میں سرکاری ہسپتالوں میں ملازمین کی مستقل ملازمتوں کے کلچر کو ختم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے انقلابی اقدامات سے ہسپتالوں کے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور کارکردگی کو مزید شفاف بنایا جا سکتا ہے۔
یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں دارالحکومت کے ایک بڑے ہسپتال میں آگ لگنے کا ہولناک واقعہ پیش آیا تھا۔ اس خطرناک حادثے کے دوران جہاں مالی نقصان ہوا، وہیں انسانی جانوں کو بچانے کے لیے کئی افراد نے شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ خصوصاً ہسپتال کی ایک فرض شناس اور بہادر نرس نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک نومولود بچے کو شعلوں کے درمیان سے بحفاظت باہر نکالا اور اس کی زندگی بچائی۔ نرس کی اس شجاعت اور بہادری پورے ملک میں سراہا گیا اور حکومتی سطح پر اس کا اعتراف کیا گیا۔
اس واقعے کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان نے بہادر نرس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسے دس لاکھ روپے کا چیک بطور انعام دیا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایسے نڈر اور فرض شناس کارکن قوم کا اثاثہ ہیں جو مشکل ترین حالات میں بھی اپنے فرائض منصبی سے غافل نہیں ہوتے۔ حکومت کی طرف سے اس ستائش نے طبی عملے کے حوصلے بلند کیے ہیں اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں سکیورٹی اور حفاظتی انتظامات کو مزید فول پروف بنایا جائے۔
دوسری جانب، پولیس اور متعلقہ سکیورٹی اداروں نے ہسپتال میں لگنے والی آگ کی مکمل تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور اپنی تفصیلی رپورٹ انسپکٹر جنرل (آئی جی) کو ارسال کر دی ہے۔ اس رپورٹ میں آگ لگنے کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ طبی ماہرین اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھی اس رپورٹ کے بعد ہسپتالوں کے اندر ایمرجنسی پلانز کو بہتر کرنے اور فائر سیفٹی کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔