LIVE
Loading Breaking News...

لبنان پر اسرائیلی حملے: چار افراد ہلاک، ہسپتال کو شدید نقصان پہنچا

News Image
جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی جانب سے کیے گئے تازہ فضائی حملوں میں دو خواتین سمیت چار افراد جاں بحق جبکہ بیس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عالمی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے شدید فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق چار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ حملوں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 20 سے تجاوز کر گئی ہے، جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں جنگ بندی کے حوالے سے امریکی ثالثی میں ہونے والے معاہدوں اور مذاکرات کا تذکرہ زور و شور سے جاری ہے، تاہم زمینی حقائق بدستور کشیدہ ہیں۔ مقامی وزارت صحت اور امدادی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے نہ صرف رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا بلکہ جنوبی لبنان میں ایک ہسپتال کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے جس سے طبی سہولیات کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ ہسپتال پر حملے کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے کیونکہ جنگی حالات میں بھی طبی مراکز کو عالمی قوانین کے تحت استثنیٰ حاصل ہوتا ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے لاشیں نکالنے کا کام امدادی ٹیمیں انجام دے رہی ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے جاری اس کشیدگی میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے میں جاری ان کارروائیوں میں مرنے والوں کی مجموعی تعداد نو ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے، جس نے پورے خطے کو ایک بڑے انسانی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر کی جا رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب لبنان کی جانب سے ان حملوں کو ملکی خودمختاری پر حملہ قرار دیا گیا ہے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تحمل کا مظاہرہ کریں اور خونریزی کو روکنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔ تاہم، جاری حملوں کی شدت سے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آیا یہ کشیدگی جلد تھمے گی یا نہیں، کیونکہ زمینی سطح پر فائر بندی کے معاہدوں کے باوجود دونوں جانب سے گولہ باری کا سلسلہ تاحال برقرار ہے۔