Business
چینی اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کے روز گراوٹ، شنگھائی انڈیکس نیچے بند
بدھ کے روز چینی حصص بازار کے بیشتر انڈیکسز میں کمی دیکھی گئی اور شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس تنزلی کے ساتھ بند ہوا۔ اگرچہ مارکیٹ میں ابتدائی طور پر مثبت رجحان دیکھا گیا تھا اور سونا اور پاور سیکٹر نمایاں رہے تھے، لیکن عالمی دباؤ برقرار رہا۔
بدھ کے روز چینی حصص بازار میں کاروبار کا اختتام گراوٹ پر ہوا اور شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس منفی زون میں بند ہوا۔ مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق چینی اے شیئر انڈیکسز نے دن کے آغاز میں تمام شعبوں میں مثبت رجحان کے ساتھ شروعات کی تھی اور ابتدائی لمحات میں چار ہزار سے زائد حصص میں بہتری دیکھی گئی تھی۔ خصوصاً سونا اور پاور سیکٹر نے ابتدائی تجارت میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور مارکیٹ کی قیادت کی۔ تاہم، دن ڈھلنے کے ساتھ ہی عالمی معاشی چیلنجز اور بیرونی دباؤ کے باعث مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس نے ابتدائی فوائد کو زائل کر دیا۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ عالمی معاشی چیلنجز کے باوجود چین کی 'سلو بل' مارکیٹس اس طرح کی اصلاحات اور اصلاحی عمل کو کامیابی سے برداشت کر رہی ہیں۔ اس کے باوجود سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں کیونکہ عالمی سطح پر کساد بازاری کے خدشات اور دیگر معاشی عوامل براہ راست چینی حصص بازار پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ طویل المدتی بنیادوں پر چینی مارکیٹ میں استحکام کے لیے اندرونی طلب اور حکومتی پالیسیاں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔ اس سیشن کے اختتام پر شنگھائی انڈیکس 0.29 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا، جو کہ سرمایہ کاروں کے مخلوط جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ عالمی معاشی اشاریے کیا رخ اختیار کرتے ہیں اور چین کے مقامی مالیاتی ادارے کیا لائحہ عمل اپناتے ہیں۔