Business
عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اضافہ، ایف اے او کی رپورٹ جاری
اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او کے مطابق اگست کے مہینے میں عالمی غذائی اجناس کی قیمتوں میں 1.9 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں چینی، گندم اور مکئی کی قیمتوں میں تیزی شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اگست کے دوران عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں 1.9 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ بنیادی طور پر چینی، گندم اور مکئی کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی وجہ سے سامنے آیا ہے، جس نے دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کی یہ قیمتیں 2022 کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جس سے دنیا بھر کے صارفین کو پریشانی کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اضافے کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے گندم کی برآمدات میں تعطل سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ شدید موسمی حالات اور عالمی سطح پر جہاز رانی کے مسائل یا شپنگ چارجز میں اضافے نے بھی دنیا بھر میں غذائی اخراجات کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ مکئی اور سویا بین جیسی اہم فصلوں کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس سے عالمی غذائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ موسمی حالات اور تجارتی رکاوٹیں برقرار رہیں تو آنے والے مہینوں میں غریب اور ترقی پذیر ممالک کے لیے خوراک کی درآمد مزید مشکل ہو جائے گی۔ عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں اس تیزی سے اضافے نے پالیسی سازوں کے لیے ایک بار پھر چیلنج کھڑے کر دیے ہیں کہ وہ کس طرح مہنگائی کے اس طوفان کو قابو میں لائیں۔ حکومتی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں تاکہ سپلائی چین کو بحال کیا جا سکے اور عام آدمی تک خوراک کی رسائی سستے داموں یقینی بنائی جا سکے۔