World
ایڈیڈاس کو بائیکاٹ کا سامنا، سابق اسرائیلی فوجی کو مہم میں شامل کرنے پر تنقید
معروف سپورٹس برانڈ ایڈیڈاس کو ایک اشتہاری مہم میں سابق اسرائیلی فوجی کو فیچر کرنے پر دنیا بھر میں شدید تنقید اور بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔
معروف بین الاقوامی سپورٹس ویئر برانڈ ایڈیڈاس کو سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر اس وقت شدید تنقید اور بائیکاٹ کی کالز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب اس نے اپنی ایک نئی تشہیری مہم میں ایک ایسے سابق اسرائیلی فوجی کو ماڈل کے طور پر پیش کیا۔ اس اقدام نے دنیا بھر کے صارفین اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جنہوں نے برانڈ کے اس فیصلے کو غیر حساسی اور غزہ میں جاری انسانی المیے کی توہین قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی جانب سے ایڈیڈاس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے لیے مہمات شروع کی جا چکی ہیں اور لوگ برانڈ سے فوری معافی اور اس متنازع اشتہار کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب، انسانی حقوق کے کارکنوں اور فلاحی تنظیموں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور حملوں کے نتیجے میں پانچ ہزار سے زائد فلسطینی معصوم شہری اپنے اعضاء سے محروم ہو چکے ہیں اور شدید طبی بحران کا شکار ہیں، ایڈیڈاس کا سابق اسرائیلی فوجی کو اپنی مہم کا حصہ بنانا انتہائی ناگوار اور تکلیف دہ ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اشتہاری فیصلے جنگ سے متاثرہ لاکھوں افراد کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہیں اور عالمی کارپوریشنز کو اپنی مارکیٹنگ کی حکمت عملی طے کرتے وقت انسانی اقدار کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
ابھی تک ایڈیڈاس کی انتظامیہ کی جانب سے اس پورے معاملے پر کوئی باضابطہ یا جامع بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم عوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر برانڈ نے جلد ہی اس معاملے پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہ کیا تو اس کے کاروباری مفادات اور عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز کے ذریعے صارفین ایڈیڈاس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں، جو دنیا بھر میں کارپوریٹ ذمہ داری اور سیاسی حساسیت کے حوالے سے ایک بڑی بحث کو جنم دے رہا ہے۔