Politics
ٹرمپ انتظامیہ کی میل ان ووٹنگ پر سپریم کورٹ میں نئی اپیل
ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال کے وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں میل ان ووٹنگ کے معاملے پر سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کا یہ فیصلہ ملک میں ہونے والے انتخابات پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایک بار پھر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت یعنی امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔ یہ معاملہ میل ان ووٹنگ کے طریقہ کار سے متعلق ہے جس نے امریکی سیاسی منظر نامے میں ایک بار پھر ہلچل مچا دی ہے۔ قانونی حلقوں کا ماننا ہے کہ اس حساس معاملے پر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ سامنے آئے گا، وہ رواں سال ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج پر براہ راست اور دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ انتظامیہ کی جانب سے دائر کی جانے والی اس تازہ ترین اپیل میں ووٹنگ کے اس طریقے سے وابستہ مبینہ خطرات اور چیلنجز کو اجاگر کیا گیا ہے۔ امریکی سیاست میں ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہا ہے اور دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس پر بٹی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایک طرف جہاں بعض حلقے اس طریقے کو ووٹرز کی سہولت اور زیادہ سے زیادہ شرکت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں، وہیں دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ اور اس کے اتحادی اس میں شفافیت کے فقدان اور ممکنہ بے ضابطگیوں کے خدشات کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ موجودہ قانونی جنگ اسی بنیادی تنازع کا تسلسل ہے جو ملک گیر سطح پر انتخابی عمل کو متنازع یا متاثر کر سکتی ہے۔ اب پوری سیاسی اور قانونی برادری کی نگاہیں امریکی سپریم کورٹ کے اگلے اقدام پر لگی ہوئی ہیں کہ عدالت اس اہم مقدمے میں کیا فیصلہ صادر کرتی ہے۔ ملک کے آئینی اور انتخابی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف حالیہ مڈٹرم انتخابات کے انتظامات پر اثر انداز ہوگا بلکہ مستقبل کے تمام انتخابی دائرہ کار کے لیے بھی ایک اہم قانونی نظیر قائم کرے گا۔