LIVE
Loading Breaking News...

ارجنٹائن کا مالویناس فاک لینڈ جزائر پر دعویٰ اور تنازع

News Image
برطانیہ اور ارجنٹائن کے درمیان فاک لینڈ یا مالویناس جزائر کی جنگ کو چوالیس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ ارجنٹائن نے ایک بار پھر ان جزائر پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ زور و شور سے اجاگر کرنا شروع کر دیا ہے۔
برطانیہ اور ارجنٹائن کے مابین فاک لینڈ جزائر (جنہیں ارجنٹائن میں مالویناس کہا جاتا ہے) کی جنگ کو چوالیس سال سے زائد کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، لیکن یہ تاریخی تنازع ایک بار پھر عالمی سطح پر سرخیوں میں آ گیا ہے۔ ارجنٹائن کی حکومت اور سیاسی حلقوں نے ان جزائر پر اپنے تاریخی اور قانونی حقوق کا دعویٰ ایک بار پھر زور و شور سے اجاگر کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس تازہ پیشرفت نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی محاذ پر نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو انیس سو اساسی میں دونوں ممالک کے درمیان اس متنازع خطے پر ایک خونریز جنگ لڑی گئی تھی جس کے نتیجے میں برطانیہ نے جزائر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھا تھا۔ تاہم، ارجنٹائن نے کبھی بھی اس برطانوی قبضے کو تسلیم نہیں کیا اور بین الاقوامی فورمز پر مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ جزائر ارجنٹائن کی ارضی سالمیت کا لازمی حصہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں ارجنٹائن کی قیادت کی طرف سے اس مؤقف کو مزید شدت سے دہرایا گیا ہے تاکہ دنیا کی توجہ اس دیرینہ مسئلے کی طرف مبذول کروائی جا سکے۔ دوسری جانب، برطانوی حکومت اور فاک لینڈ کے مقامی باشندوں کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ برطانیہ کا اصرار ہے کہ جزائر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے رہائشیوں کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے، جنہوں نے ماضی میں ریفرنڈم کے دوران برطانوی سرزمین کا حصہ رہنے کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیا تھا۔ برطانوی حکام نے ارجنٹائن کے اس تازہ دعوے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اسٹریٹجک مفادات اور مقامی آبادی کے حقوق کا بھرپور دفاع جاری رکھیں گے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ارجنٹائن کی جانب سے اس تنازع کو دوبارہ ہوا دینا ملکی سیاست اور عوامی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ فوری طور پر کسی فوجی تصادم کے امکانات معدوم ہیں، لیکن سفارتی سطح پر لفظی جنگ اور دباؤ کا یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ عالمی برادری اس تمام صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے کیونکہ یہ تنازع جنوبی اٹلانٹک خطے کے امن اور استحکام سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔