World
الجیریا: کنویں میں پھنس جانے والا بچہ چار دن بعد مردہ حالت میں ملا
الجیریا میں چار روز قبل کنویں میں گرنے والے دس سالہ بچے ایوب کی لاش ریسکیو ٹیموں نے نکال لی ہے۔ اس دلخراش واقعے پر ملک بھر میں شدید رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔
الجیریا میں پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں چار روز قبل ایک گہرے کنویں میں گرنے والا دس سالہ بچہ ایوب جاں بحق ہو گیا ہے۔ مقامی حکام اور ریسکیو ذرائع کے مطابق، طویل اور مشکل ترین آپریشن کے بعد امدادی کارکن بچے کی جان بچانے میں ناکام رہے اور اس کی لاش کنویں سے باہر نکال لی گئی۔ اس حادثے نے پوری دنیا میں چند سال قبل مراکش میں پیش آنے والے ریان کے واقعے کی یاد تازہ کر دی ہے، جس نے ایک بار پھر گہرے کنوؤں اور کھلے سوراخوں کی حفاظتی تدابیر پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
بچے کے کنویں میں گرنے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، سول ڈیفنس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی تھیں اور امدادی کارروائیاں کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ زمین کی سخت ساخت اور کنویں کی گہرائی کی وجہ سے ریسکیو کے کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین اور رضا کاروں نے دن رات ایک کرتے ہوئے مٹی ہٹانے اور بچے تک پہنچنے کے لیے متبادل سرنگیں بنانے کی کوشش کی، تاہم مسلسل چار دنوں کی انتھک محنت کے باوجود وہ بچے کو زندہ بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
بچے کی لاش ملنے کی تصدیق ہوتے ہی اس کے اہل خانہ پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور پورے علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ مقامی شہریوں نے اس واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دیہی اور آبادی والے علاقوں میں موجود غیر محفوظ اور کھلے کنوؤں کو فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کریں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات کی روک تھام کی جا سکے۔
حکومتی عہدیداروں نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندان سے دلی تعزیت پیش کی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کے حادثات کی تحقیقات کی جائیں گی اور غفلت برتنے والے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ کسی معصوم کی زندگی اس طرح خطرے میں نہ پڑے۔