LIVE
Loading Breaking News...

ایران کی امریکہ کو سخت وارننگ: مزید حملوں پر تکلیف دہ جواب دیا جائے گا

News Image
تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری تنازع میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے کسی بھی امریکی حملے کے خلاف انتہائی سخت اور تکلیف دہ ردعمل ظاہر کرنے کی دھمکی دی۔ دونوں ممالک کے درمیان خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
تہران: ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اتوار کے روز سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کوئی مزید فوجی کارروائی کی تو ایران کی طرف سے کہیں زیادہ تیز، شدید اور تکلیف دہ ردعمل سامنے آئے گا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ اب متناسب اور محدود جوابات کا دور ختم ہو چکا ہے اور ملکی سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوںممالک کے درمیان جاری چھ ماہ طویل کشیدگی اور بحری تنازع میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز اور اس کے گردونواح میں امریکی جنگی بحری جہازوں اور ایرانی آئل ٹینکرز کے مابین فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ائیر کرافٹ کیریئر اور ایک ڈسٹرائر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ اس کے جواب میں امریکی فوج نے ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں جزیرہ خارک اور آبنائے عمان کے قریب مکمل طور پر تباہ یا ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی بحری فورسز نے آبنائے ہرمز کے غیر مجاز راستوں پر چلنے والے تین ٹینکرز اور امریکی مفادات سے جڑے جہازوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ تجارتی جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ میں سفر کے لیے ایرانی احکامات کی پابندی کرنی ہوگی۔ واشنگٹن میں حکام اس تنازع کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان سفارتی ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے اور خطے میں تیل کی سپلائی لائنوں کے حوالے سے عالمی خدشات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔