LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں نئے صوبے: محسن نقوی کا انتظامی ڈھانچے کی تبدیلی کا مطالبہ

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ملک میں نئے صوبے اور انتظامی اکائیاں بنانے پر زور دیا ہے۔ اس معاملے پر پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
لاہور اور کراچی میں ہونے والی سیاسی ہلچل کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بار پھر ملک کے انتظامی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی اور نئے صوبے بنانے کا پر زور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور بدلتے ہوئے تقاضوں کو موجودہ نظام کے تحت چلانا اب ممکن نہیں رہا، اس لیے ملک میں نئی انتظامی اکائیاں قائم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کے اس مطالبے کا مقصد کسی حکومت کو گرانا نہیں بلکہ طویل عرصے سے درپیش عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے نظام کی تشکیلِ نو کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریباً آٹھ دہائیوں گزرنے کے باوجود پاکستان کے شہریوں کو تعلیم، صحت، صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے اور اس مسئلے کا مستقل حل صرف انتظامی حدود کی بہتری میں ہے۔وزیر داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلام آباد کو بھی صوبائی حیثیت دی جانی چاہیے کیونکہ وفاقی دارالحکومت کے رہائشیوں کو این ایف سی ایوارڈ میں ان کا جائز حصہ نہیں ملتا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس معاملے پر وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی رائے کو مدنظر رکھا جانا چاہیے کیونکہ اس طرح کے بڑے فیصلے بغیر عوامی تائید کے نافذ نہیں کیے جا سکتے۔ دوسری طرف وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کو ناگزیر قرار دیا ہے اور پیپلز پارٹی کے دوہرے معیار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے کے مطالبے پر پیپلز پارٹی کا رویہ نرم ہوتا ہے لیکن سندھ میں اس قسم کی بات پر مختلف مؤقف اپنایا جاتا ہے۔دریں اثنا، پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔ پی پی پی سندھ کے رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کی جغرافیائی حیثیت اور اٹھارویں ترمیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی کابینہ کے وزراء کو اس قسم کے بیانات دینے سے روکیں جو وفاق اور صوبوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس سیاسی ڈیڈ لاک کے دوران ملک بھر میں نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی تشکیل کے موضوع پر بحث زور پکڑتی جا رہی ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر مزید گرما گرمی متوقع ہے۔