Health
آئیورمیکٹن اور کینسر کا علاج: ماہرینِ اونکولوجی کی تحقیقات
سوشل میڈیا پر آئیورمیکٹن کو کینسر کے علاج کے طور پر پیش کیے جانے کے بعد طبی ماہرین نے اس کی حقیقت واضح کر دی ہے۔ اونکولوجسٹس کے مطابق اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے کہ یہ دوا کینسر کے خلاف مؤثر ہے۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ آیا مشہور دوا آئیورمیکٹن کینسر کے علاج کے طور پر کارآمد ثابت ہو سکتی ہے یا نہیں۔ اس حوالے سے دنیا بھر کے ماہرینِ اونکولوجی اور طبی محققین نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے تاکہ عوام کو اس دوا کے درست طبی استعمال اور افادیت کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بعض لیبارٹری ٹیسٹس میں اس دوا کے کچھ اثرات دیکھے گئے ہیں، لیکن انسانی جسم میں کینسر کے خلاف اس کے موثر ہونے کا کوئی مصدقہ کلینیکل ثبوت موجود نہیں ہے۔
طبی ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آئیورمیکٹن بنیادی طور پر ایک ایسی دوا ہے جو انسانوں اور جانوروں میں پرजीवी (Parasitic) انفیکشن کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ کینسر جیسی پیچیدہ اور جان لیوا بیماری کے لیے اس کے استعمال کو تاحال کسی بھی بڑے طبی ادارے یا عالمی تنظیم کی طرف سے منظور نہیں کیا گیا۔ اونکولوجسٹس کا کہنا ہے کہ کینسر کے مریضوں کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں اور غیر مصدقہ دعؤوں پر بھروسہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے ان کی صحت کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
کینسر کے ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی نئی دوا یا علاج کو عام کرنے کے لیے کلینیکل ٹرائلز کے سخت مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اور آئیورمیکٹن کے معاملے میں اس نوعیت کے حتمی اور مثبت نتائج ابھی تک سامنے نہیں آئے۔ مریضوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بیماری کے علاج کے لیے صرف مستند معالجین اور اونکولوجسٹس کی ہدایات پر عمل کریں اور روایتی کینسر تھراپیز کو خود ساختہ متبادل ادویات کے لیے نہ چھوڑیں۔