LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، شرح 33 فیصد پر آ گئی

News Image
امریکہ میں ہونے والے وسطی مدتی انتخابات سے قبل بڑھتے ہوئے معاشی خدشات کی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق صدر کی منظوری کی شرح کم ہو کر صرف 33 فیصد رہ گئی ہے۔
واشنگٹن: امریکہ میں آنے والے وسطی مدتی انتخابات سے بالکل پہلے ملکی معیشت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات اور چیلنجز نے سیاسی میدان میں ہلچل مچا دی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار اور سروے رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں نمایاں ترین گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ان کی منظوری کی مجموعی شرح کم ہو کر صرف 33 فیصد تک محدود ہو گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ووٹرز میں بڑھتی ہوئی معاشی بے چینی اور مہنگائی کے دباؤ نے اس سیاسی زوال میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ ملک بھر میں ہونے والے نئے سروے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت موجودہ معاشی حالات اور حکومتی پالیسیوں سے شدید عدم اطمینان کا شکار ہے۔ مہنگائی کی بلند شرح، اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ اور روزگار کے مواقع کے حوالے سے پایا جانے والا عدم تحفظ عام شہریوں کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ ایسے وقت میں جب وسطی مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، عوامی سطح پر اس قسم کا معاشی عدم اطمینان حکمراں جماعت اور قیادت کے لیے ایک بہت بڑا سیاسی چالش بن کر ابھرا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی حریف اور اپوزیشن جماعتیں اس صورتحال کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے معاشی محاذ پر حکومت کی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنایا جا रहा ہے اور ووٹرز کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ موجودہ انتظامیہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران معیشت کا یہ موضوع مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور تمام جماعتیں ووٹرز کو اپنے حق میں کرنے کے لیے اسی نکتے پر سب سے زیادہ زور دے رہی ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم اس گرتی ہوئی مقبولیت اور معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے کون سے نئے اقدامات اٹھاتی ہے۔ کیا وہ کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں جو ووٹرز کا اعتماد بحال کر سکے یا پھر معاشی خدشات وسطی مدتی انتخابات کے نتائج پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کریں گے، اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا، لیکن فی الحال سیاسی میدان میں گومگو کی کیفیت برقرار ہے۔