LIVE
Loading Breaking News...

چین کا مشرق وسطیٰ میں نیا قدم، مصر کو بنایا اہم اسٹریٹجک پارٹنر

News Image
چینی صدر شی جن پنگ کے دورۂ مصر نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی سترویں سالگرہ کے موقع پر دوطرفہ اسٹریٹجک تعاون کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اس دورے کو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور نئی جیو پولیٹیکل صف بندی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ کا دورۂ مصر، جو یکم ستمبر کو شروع ہوا، ایک دہائی کے بعد ان کا پہلا دورہ ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی سترویں سالگرہ کے موقع پر انجام پایا ہے۔ اس دورے نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں چین کے بڑھتے ہوئے قدموں کو مزید مستحکم کر دیا ہے اور مصر کو خطے میں ایک نئے طاقت کے محور کے طور پر ابھارنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، یہ دورہ محض رسمی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے اقتصادی اور اسٹریٹجک مقاصد پوشیدہ ہیں۔ ملاقاتوں کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے تحت مصر کو ایک اہم اسٹریٹجک مرکز کی حیثیت حاصل ہے، اور اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور صنعتی شعبوں میں نئے معاہدے طے پائے ہیں جو مستقبل میں خطے کی معیشت پر گہرے نقوش چھوڑیں گے۔ چین کی جانب سے مصر میں انفراسٹرکچر اور توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف مصری معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ مشرق وسطیٰ میں بیجنگ کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔ اس پیش رفت کو امریکہ اور مغربی ممالک کے لیے بھی ایک اہم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ چین خطے میں اپنی معاشی اور سفارتی ڈپلومیسی کو کامیابی سے آگے بڑھا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس شراکت داری کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہونے کی توقع ہے، خاص طور پر تجارت، توانائی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔