LIVE
Loading Breaking News...

لاس اینجلس اسکولوں میں اے آئی پر پابندی - نیکسورا نیوز

News Image
لاس اینجلس کے سرکاری اسکولوں کے نظام نے تمام تعلیمی درجات میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر وسیع پیمانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس پابندی کا انکشاف اسکول بورڈ کے ایک اجلاس کے دوران ملازمین سے پوچھ گچھ کے بعد سامنے آیا۔
لاس اینجلس کے سرکاری اسکولوں کے نظام نے تمام تعلیمی درجات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال پر وسیع پیمانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کا مقصد کلاس رومز میں طلباء کی تعلیمی صلاحیتوں اور روایتی سیکھنے کے عمل کو محفوظ بنانا ہے۔ اس پابندی کے نفاذ سے طلباء کے لیے اسکول کی حدود میں جدید مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال انتہائی محدود ہو جائے گا۔ حیرت انگیز طور پر اس اہم پالیسی اور پابندی سے متعلق خبر کو سامنے لانے کے لیے کافی تگ و دو کرنی پڑی۔ اسکول بورڈ کے ذرائع کے مطابق، اس پابندی کا انکشاف لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ (LAUSD) کے ملازمین سے ایک اجلاس کے دوران بمشکل ہی حاصل کیا جا سکا۔ اس سے قبل اس معاملے کو عوامی سطح پر کھل کر زیر بحث نہیں لایا گیا تھا جس پر ماہرین تعلیم نے بھی حیرت کا اظہار کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد تعلیمی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر روکنا درست قدم ہے یا اس کے استعمال کے لیے کوئی بہتر لائحہ عمل تیار کیا جانا چاہیے۔ دنیا بھر کے تعلیمی ادارے اس وقت اس کشمکش میں ہیں کہ چیٹ جی پی ٹی اور دیگر جنریٹو اے آئی ٹولز طلباء کی تخلیقی صلاحیتوں کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں۔ لاس اینجلس کا یہ قدم اس حوالے سے ایک بڑا اور سخت فیصلہ مانا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اسکول انتظامیہ اس پابندی کے اثرات کا جائزہ لے گی اور یہ دیکھنے کی کوشش کی جائے گی کہ اس سے طلباء کی تعلیمی کارکردگی پر کیا مثبت یا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کی جانب سے بھی اس فیصلے پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ کچھ لوگ اسے طلباء کی بنیادی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔