World
جرمن صوبائی انتخاب میں انتہائی دائیں بازو کی اے ایف ڈی کی فتح
جرمنی کے ایک اہم صوبائی انتخاب میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی نے شاندار کامیابی حاصل کر لی ہے۔ تاہم، دیگر روایتی جماعتوں کی جانب سے اتحادی حکومت بنانے سے گریز کی پالیسی کے باعث اس کی اکثریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
جرمنی کی سیاست میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'الٹرنیٹو فار جرمنی' (AfD) نے ملک کے ایک اہم مشرقی صوبے کے انتخابات میں تاریخی فتح حاصل کر لی ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق یہ جماعت نمایاں برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے، تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ حکومت سازی کے لیے درکار مطلق اکثریت حاصل کرنے سے محروم رہ سکتی ہے۔ اس فتح کو جرمن سیاسی منظرنامے میں ایک بڑا اور ڈرامائی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
روایتی اور مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں نے اے ایف ڈی کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے پہلے ہی ایک سیاسی 'فائر وال' یا دفاعی حکمت عملی تشکیل دے رکھی ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ انتخابات میں کامیابی کے باوجود کسی بھی دوسری جماعت کو اس شدت پسند نظریات کی حامل پارٹی کے ساتھ اتحادی حکومت بنانے کی اجازت نہ دی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ اے ایف ڈی نے ووٹوں کی بڑی تعداد حاصل کر لی ہے، لیکن پارلیمنٹ میں اکیلے حکومت بنانے کے لیے ضروری ارکان کی تعداد پوری نہ ہونے کی صورت میں اس کے اقتدار تک پہنچنے کے امکانات انتہائی معدوم نظر آتے ہیں۔
اس انتخابی نتائج نے پورے ملک میں ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ اے ایف ڈی کی اس کامیابی کو مہنگائی، تارکین وطن کے مسائل اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں سے عوام کی ناراضگی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمنی کے مشرقی علاقوں میں اس طرح کے رجحانات کا بڑھنا روایتی جماعتوں کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ آئندہ دنوں میں حکومت سازی کے عمل کے دوران سیاسی جوڑ توڑ اور اتحاد سازی کی کوششیں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں، جس پر نہ صرف جرمنی بلکہ پورے یورپ کی نگاہیں مرکوز ہیں۔