World
انڈونیشیا میں آتش فشاں کا پھٹنا، پروازیں اور مسافر متاثر
انڈونیشیا میں کوہ انک کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے سے بڑے پیمانے پر فضائی سفر متاثر ہوا ہے جس کی زد میں بائیس ہزار سے زائد مسافر اور دو سو سے زیادہ پروازیں آ گئی ہیں۔ حکام نے خطے میں حفاظتی اقدامات سخت کرتے ہوئے اسکول اور قریبی ہوائی اڈے بند کر دیے ہیں۔
انڈونیشیا میں کوہ انک کراکاٹوا آتش فشاں کے ایک بار پھر پھٹنے کے بعد زندگی کا نظام شدید متاثر ہو گیا ہے، اور اس قدرتی آفت کی وجہ سے کم از کم بائیس ہزار مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اطلاعات کے مطابق آتش فشاں کے دھماکے کے بعد فضا میں راکھ اور پتھروں کے بادل پھیل گئے، جس کے نتیجے میں دو سو نو پروازیں متاثر یا منسوخ کرنا پڑیں اور فضائی سفر کو خطرات سے بچانے کے لیے فوری ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے۔
اس صورتحال کے پیش نظر انڈونیشیا کے مختلف حصوں میں آٹھ اہم ہوائی اڈوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جن میں معروف سیاحتی مقام بالی کا ایئرپورٹ بھی شامل ہے جہاں درجنوں پروازیں منسوخ کی گئیں۔ ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ فضا میں موجود آتش فشاں کی راکھ جیٹ انجنوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، اس لیے مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پروازوں کی آمد و رفت کو معطل کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔
صرف فضائی سفر ہی نہیں بلکہ زمینی اور سمندری سرگرمیاں بھی اس قدرتی واقعے کی زد میں آئی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ بچوں کو راکھ اور زہریلی گیسوں سے محفوظ رکھا جا سکے، جبکہ مقامی ماہی گیروں کو بھی کھلے سمندر میں جانے سے روک دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آتش فشاں کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور صورتحال معمول پر آنے تک الرٹ جاری رہے گا۔