World
امریکہ اور ایران مذاکرات: مصر کا تنازعات کے پرامن حل پر زور
مصر نے مشرق وسطیٰ کے امور اور علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ تمام بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے بات چیت کی میز پر واپس آئیں۔ یہ بات قاہرہ اور سلطنت عمان کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی بات چیت کے دوران سامنے آئی۔
قاہرہ: مصر نے مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک بار پھر سفارتی کوششوں کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں سلطنت عمان کے ساتھ ہونے والی اہم سفارتی بات چیت کے دوران مصری حکام نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان تمام بقایا تنازعات اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ دونوں فریقین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ خطے میں مزید کسی بھی بڑے تصادم سے بچنے کے لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی ذرائع کو بحال کرنا انتہائی ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس سفارتی سرگرمی کے دوران خطے کے دیگر اہم امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی کے مسائل سر فہرست تھے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، مصر کا یہ مؤقف رہا ہے کہ تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور خطے میں استحکام کے لیے بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنے چاہئیں۔ حالیہ ملاقاتوں میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ کسی بھی تنازعے کا عسکری حل خطے کے مفاد میں نہیں ہے، بلکہ مذاکرات ہی خطے کو ایک بڑے بحران سے بچانے کا واحد مؤثر ذریعہ ہیں۔
علاوہ ازیں، اس پس منظر میں پاکستان اور مصر کے درمیان بھی علاقائی سلامتی، باہمی تعاون اور بین الاقوامی فورمز پر مشترکہ لائحہ عمل کے حوالے سے اہم رابطے جاری ہیں۔ پاکستانی اور مصری وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی حالیہ گفتگو میں بھی علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدیدار مزید تفصیلی ملاقات کریں گے۔ مبصرین کے مطابق، خطے میں جاری سفارتی حرکیات اس بات کی علامت ہیں کہ مسلم ممالک اور اہم علاقائی قوتیں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہیں۔