World
روس یوکرین جنگ: امن مذاکرات اور فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات
امریکہ کے خصوصی نمائندوں کی ولادیمیر پوتن اور وولودیمیر زیینسکی سے ملاقاتوں کے باوجود کیف میں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ جنگ جاری رہے گی۔ فریقین کے مابین امن بات چیت میں علامتی نوعیت تو پائی جاتی ہے مگر بنیادی تنازعات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
امریکہ کے اعلیٰ نمائندوں کی جانب سے روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر وولودیمیر زیینسکی کے ساتھ ہونے والی ملاقاتیں اگرچہ سفارتی سطح پر بڑی علامتی اہمیت کی حامل ہیں، تاہم زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اور گہرے اختلافات بدستور برقرار ہیں۔ ان سفارتی کوششوں کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کی میز پر فریقین کو لانا تھا، لیکن کیف کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں اب بھی یہی توقع کی جا رہی ہے کہ فی الحال جنگ تھمنے کا کوئی فوری امکان نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خاتمے کی شرائط پر تاحال کوئی اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی مندوبین نے تنازع کے حل کے لیے دونوں دارالحکومتوں کے دورے کیے اور فریقین کے مؤقف کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس عمل کو بلاشبہ ایک سفارتی پیش رفت قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ طویل عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطے تعطل کا شکار تھے۔ تاہم، ان ملاقاتوں کے نتیجے میں بھی جنگ بندی کے حوالے سے کوئی بڑی کامیابی سامنے نہیں آ سکی ہے۔ یوکرینی قیادت کا موقف ہے کہ وہ اپنی علاقائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی، جبکہ دوسری طرف روسی حکام بھی اپنے اہداف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتے، جس کی وجہ سے امن کی راہ میں بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔
کیف میں موجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر امریکہ اس جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے، لیکن زمینی حالات اب بھی انتہائی کشیدہ ہیں۔ دونوں جانب سے فوجی تیاریاں اور مورچہ بندی جاری ہے، اور کسی بھی فریق کی طرف سے عارضی یا مستقل جنگ بندی کے لیے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔ اس پس منظر میں، یہ امن مذاکرات فی الحال محض سفارتی گراؤنڈ ورک یا علامتی اقدامات تک محدود معلوم ہوتے ہیں جب تک کہ کوئی بڑا توسیعی یا اثر انگیز معاہدہ طے نہیں پاتا۔