Technology
کیوبیک عدالتوں کا اعلان: جنریٹو اے آئی ججوں کے استدلال کا متبادل نہیں
کیوبیک کی عدالتوں نے واضح کیا ہے کہ جنریٹو مصنوعی ذہانت ججوں کے فیصلے دینے کے عمل اور قانونی استدلال کا متبادل نہیں بن سکتی۔ عدالتوں کے مطابق فی الحال ججوں کے لیے کوئی منظور شدہ اور محفوظ ادارہ جاتی اے آئی ٹول دستیاب نہیں ہے۔
کیوبیک کی عدالتوں نے عدالتی امور میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے سخت اور واضح رہنما خطوط جاری کیے ہیں۔ ان نئے رہنما خطوط میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنریٹو مصنوعی ذہانت (Generative AI) کسی بھی صورت میں ججوں کے اپنے قانونی استدلال اور فیصلوں کی جگہ نہیں لے سکتی۔ عد حکام کا کہنا ہے کہ انصاف کی فراہمی اور قانونی چارہ جوئی کے عمل میں انسانی فہم اور تجربے کا متبادل کوئی ٹیکنالوجی نہیں ہو سکتی۔ یہ اہم فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ مہینے قبل اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ آیا کیوبیک کے ایک جج نے اپنے فیصلے کی تیاری کے دوران جنریٹو اے آئی کا استعمال تو نہیں کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے اخلاقی اور قانونی اثرات پر بحث شروع ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں یہ نئے ضوابط وضع کیے گئے ہیں۔ عدالتوں کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فی الحال عدلیہ کے پاس ایسا کوئی بھی منظور شدہ، مستند اور محفوظ ادارہ جاتی جنریٹو اے آئی ٹول موجود نہیں ہے جسے جج اپنے روزمرہ کے عدالتی فیصلوں یا قانونی مسودات کی تیاری کے لیے استعمال کر سکیں۔ عدالتی حکام کا ماننا ہے کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی مختلف شعبوں میں کارکردگی بہتر بنا رہی ہے، لیکن عدلیہ کی حساسیت اور فیصلوں کی درستگی کے پیش نظر ججوں کو روایتی قانونی ذرائع اور اپنے ذاتی استدلال پر ہی انحصار کرنا ہوگا تاکہ عدالتی نظام پر عوامی اعتماد بحال اور برقرار رہے۔