LIVE
Loading Breaking News...

این ایچ ایس میں ٹیک سافٹ ویئر کا استعمال اور گرین پارٹی کا دباؤ

News Image
برطانیہ میں گرین پارٹی کے رہنماؤں نے این ایچ ایس کی جانب سے معروف ٹیک کمپنی کے سافٹ ویئر کے استعمال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ گرین پارٹی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے باعث مقامی کونسلز میں ہیلتھ سیکٹر کی ڈیجیٹل پالیسیوں پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔
برطانیہ میں گرین پارٹی کے سرکردہ رہنما زیک پولانسکی اور ان کے حامیوں کی جانب سے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ معروف ٹیکنالوجی کمپنی پ্যালানٹیر کا سافٹ ویئر استعمال کرنا بند کر دے۔ یہ صورتحال اس وقت انتہائی دلچسپ اور متنازعہ بن گئی ہے جب کہ اس ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے عملی استعمال سے مریضوں کے طویل انتظار کی فہرستوں میں واضح کمی واقع ہوئی ہے اور کینسر کی تشخیص کے عمل میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ گرین پارٹی کے ارکان مقامی کونسلز میں اپنے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے این ایچ ایس کے انتظامی امور اور ڈیجیٹل پارٹنرشپس پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ حساس طبی ڈیٹا کو نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حوالے کرنے سے پرائیویسی اور ڈیٹا سکیورٹی کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس تنقید کے برعکس، طبی ماہرین اور این ایچ ایس کے حامی حلقوں کا اصرار ہے کہ یہ جدید سافٹ ویئر اسپتالوں کے نظام کو بہتر بنانے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مریضوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ اسپتالوں کے اندر موجود انتظامی ڈھانچے کو ڈیجیٹائز کرنے سے نہ صرف کاغذی کارروائی میں کمی آئی ہے بلکہ ڈاکٹروں کو بروقت اور درست فیصلے کرنے میں بھی مدد ملی ہے۔ اگرچہ گرین پارٹی کے اس دباؤ کے بعد صحت کے شعبے میں نجی کمپنیوں کے کردار پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ مریضوں کی بہتری اور علاج معالجے کے معیار کو بلند کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے مکمل چشم پوشی کرنا ممکن نہیں۔ आने वाले दिनों میں اس معاملے پر پارلیمنٹ اور مقامی سطح پر مزید گرما گرم بحث کی توقع کی جا رہی ہے، جہاں ایک طرف ڈیٹا کے تحفظ کا سوال ہے تو دوسری طرف مریضوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے تیز رفتار طبی سہولیات کی فراہمی کا چیلنج بھی موجود ہے۔