Technology
امریکہ کے اسکولوں میں مصنوعی ذہانت پر پابندی - نیکسورا نیوز
امریکہ کے دو سب سے بڑے تعلیمی اضلاع نے طلباء اور اساتذہ کے لیے مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد تدریجی جائزے کے بعد تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے محفوظ اور منصفانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
امریکہ کے دو سب سے بڑے تعلیمی اضلاع نے کلاس رومز اور تعلیمی سرگرمیوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اہم فیصلے کے تحت اساتذہ اور طلباء کو فی الحال جدید ترین مصنوعی ذہانت کے ٹولز اور چیٹ بوٹس کو نصابی سرگرمیوں میں استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندی طلباء کی سیکھنے کی صلاحیتوں کو متاثر ہونے سے بچانے اور تعلیمی اداروں میں نقل یا غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لگائی گئی ہے۔ تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کے بے شمار فوائد ہیں لیکن اس کے بے لگام استعمال سے طلباء کی تخلیقی صلاحیتیں اور تنقیدی سوچ بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے اس عارضی پابندی کے دوران ماہرین کی ایک کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا تعلیمی ماحول میں مصنوعی ذہانت کو کیسے اور کس حد تک شامل کیا جانا چاہیے۔ اس دوران اسکولوں میں روایتی تدریجی طریقوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ تعلیمی معیار کو بلند رکھا جا سکے۔ والدین اور اساتذہ کی جانب سے اس فیصلے کو ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جہاں ایک طرف کچھ والدین اس فیصلے کو بچوں کے روشن مستقبل کے لیے سودمند قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بعض حلقوں کا خیال ہے کہ مستقبل کی ٹیکنالوجی سے بچوں کو دور رکھنا ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تعلیمی حکام کا ارادہ ہے کہ وہ جلد ہی ایک جامع لائحہ عمل تیار کریں گے جس کے تحت اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کے اصول و ضوابط طے کیے جائیں گے۔