Technology
امریکہ میں اے آئی کیمروں کا خطرہ، پینٹاگون کے سابق عہدیدار کی وارننگ
پینٹاگون کے مصنوعی ذہانت کے سابق پالیسی ڈائریکٹر مارک بیل نے خبردار کیا ہے کہ فلاک کیمروں جیسی نگرانی کی ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ امریکہ کو چین کی طرز کی نگرانی والی ریاست میں تبدیل کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے اس طرح کے جاسوسی ٹولز کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔
پینٹاگون کے مصنوعی ذہانت کے سابق پالیسی ڈائریکٹر مارک بیل نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ میں اے آئی پر مبنی نگرانی کے آلات اور فلاک کیمروں کا تیزی سے بڑھتا ہوا پھیلاؤ امریکی معاشرے کو چین جیسی نگرانی والی ریاست میں تبدیل کرنے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قسم کی ٹیکنالوجی کے ذریعے عام شہریوں کی روزمرہ کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے جو بنیادی انسانی حقوق اور پرائیویسی کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
فلاک سیفٹی نامی یہ کمپنی امریکہ بھر میں ہزاروں کی تعداد میں خودکار لائسنس پلیٹ ریڈر کیمرے نصب کر رہی ہے جو مقامی پولیس محکموں کو ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ مارک بیل کے مطابق، ان ٹولز کی مدد سے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بغیر کسی وارنٹ یا معقول شبے کے شہریوں کے ڈیٹا کا بڑا ذخیرہ اکھٹا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے سول سبتھ اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں بھی شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ یہ نظام کسی بھی وقت جبر اور نگرانی کے غلط استعمال کا باعث بن سکتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور چہرے کی شناخت جیسی جدید صلاحیتیں مل کر ایک ایسا نیٹ ورک بنا رہی ہیں جس سے پبلک سپیس میں پرائیویسی کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے اخلاقی استعمال پر بحث جاری ہے، اور اب امریکہ میں بھی اس بات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس طرح کے جاسوسی آلات کے استعمال پر کڑی نگرانی رکھی جائے تاکہ جمہوری اقدار کو محفوظ بنایا جا سکے۔