LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور مسلم ممالک کی غزہ سے جبری بے دخلی کے اسرائیلی بیانات پر مذمت

News Image
پاکستان سمیت آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی سے متعلق اسرائیلی وزراء کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے۔ ان ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے منصوبے خطے میں امن اور سکیورٹی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔
اسلام آباد اور دیگر دارالحکومتوں سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ سفارتی ردعمل میں پاکستان سمیت آٹھ مسلم اکثریتی ممالک نے غزہ سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی اور جبری ہجرت کو فروغ دینے والے اسرائیلی وزراء کے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور معصوم شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیل کے کچھ وزراء اور دفاعی حکام کی جانب سے بارہا ایسے بیانات دیے گئے ہیں جن میں غزہ کے فلسطینیوں کو ان کے اپنے تاریخی وطن سے نکال کر دوسری جگہوں پر آباد کرنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان بیانات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسلم بلاک کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ یہ اشتعال انگیز منصوبے بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اسرائیل کے اس قسم کے عزائم نہ صرف فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں بلکہ خطے میں کسی بھی قسم کے دیرپا امن کی کوششوں کو بھی سبوتاژ کرتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پالیسیاں امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں اور عالمی برادری کو اس معاملے پر فوری اور سخت نوٹس لینا چاہیے تاکہ فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ دوسری جانب، غزہ کے فلسطینی عوام اور مختلف مقامی قیادت نے بھی اپنے وطن کو چھوڑنے کی ان تمام تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنی زمین پر ہی رہیں گے۔ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ایسے غیر قانونی اقدامات سے روکے اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے فوری امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔