World
نেন্সি گتھری کیس اپ ڈیٹ: بالوں کے نمونے سے ڈی این اے حاصل نہ ہو سکا
تفتیش کاروں کے مطابق نেন্সি گتھری کے گھر سے ملنے والے بالوں کے نمونے سے ڈی این اے پروفائل حاصل کرنے میں کامیابی نہیں ملی۔ پولیس اس معاملے میں مزید سائنسی شواہد اور ڈیجیٹل شواہد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔
ٹوسان، ایریزونا میں نেন্সি گتھری کے پراسرار کیس کی تحقیقات میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب حکام نے انکشاف کیا کہ جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والے بالوں کے نمونے سے کوئی قابلِ استعمال ڈی این اے پروفائل حاصل نہیں کیا جا سکا۔ پیما کاؤنٹی کے شیرف کرس نینوس نے ایک تازہ انٹرویو میں بتایا کہ فرانزک ماہرین نے گھر کے اندر سے ملنے والے بالوں کے نمونوں پر انتہائی باریک بینی سے کام کیا لیکن تکنیکی رکاوٹوں اور نمونے کی حالت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے اس سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔
شیرف کرس نینوس نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی ٹیمیں اس کیس کے تمام ممکنہ زاویوں سے جائزہ لے رہی ہیں اور ڈی این اے پروفائلنگ میں ناکامی کے باوجود وہ اس معاملے میں کسی بھی دوسری تکنیک کو استعمال کرنے سے گریز نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے پیچیدہ مقدمات میں فرانزک شواہد کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے، اس لیے سائنسدان اور تفتیش کار ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کسی دوسرے ذریعے سے کوئی ٹھوس شواہد حاصل کر سکیں جو ملزم تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں۔
نেন্সি گتھری کے اس کیس نے مقامی سطح پر اور میڈیا میں وسیع پیمانے پر توجہ حاصل کی ہے۔ عوام اور ان کے اہلِ خانہ انصاف کے منتظر ہیں جبکہ پولیس ڈیپارٹمنٹ پر بھی جلد از جلد اس معمہ کو حل کرنے کا شدید دباؤ موجود ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس بھی اس کیس سے متعلق کوئی بھی اہم معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رابطہ کریں تاکہ تفتیش کو درست سمت میں آگے بڑھایا جا سکے۔
تحقیقاتی ٹیمیں اب ڈی این اے کے علاوہ دیگر ڈیجیٹل شواہد، فون ریکارڈز اور اردگرد کے سکیورٹی کیمروں کی فوٹیجز کا باریک بینی سے تجزیہ کر رہی ہیں۔ شیرف کے دفتر نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ نেন্সি گتھری اور ان کے خاندان کو انصاف دلانے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں گے اور اس کیس کی تہہ تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔