Health
ویل نیس انڈسٹری کا پردہ فاش: ڈاکٹر زینڈ وان تولی کین کی رپورٹ
مشہور ڈاکٹر اور براڈکاسٹر زینڈ وان تولی کین نے ویل نیس انڈسٹری کے فینسی اور مہنگے دعوؤں کی حقیقت عوام کے سامنے عیاں کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح نام نہاد صحت بخش مصنوعات اور وٹامن ڈرپس لوگوں کی پریشانیوں سے فائدہ اٹھا کر انہیں نقصان پہنچا رہی ہیں۔
صحت اور تندرستی کے نام پر قائم ہونے والی اربوں ڈالر کی ویل نیس انڈسٹری ایک بار پھر سخت تنزیدی بحث کی زد میں ہے۔ مشہور ڈاکٹر اور براڈکاسٹر زینڈ وان تولی کین نے ایک بار پھر اس صنعت کے کھوکھلے دعوؤں اور مشکوک وعدوں کا پول کھول دیا ہے۔ ان کے مطابق بازار میں فروخت ہونے والی مہنگی مصنوعات، ملٹی وٹامنز اور نام نہاد صحت بخش ڈرپس انسانی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے بجائے اکثر فریب اور مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی ایسی بہت سی اشیاء کی نشاندہی کی جو عوام کی صحت سے متعلق پائی جانے والی تشویش اور خوف کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ویل نیس انڈسٹری کی جانب سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جدید ترین سمارٹ واچز اور فینسی سپلیمنٹس ہر شخص کو طویل اور صحت مند زندگی کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ تاہم، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ڈاکٹر زینڈ نے اپنی تحقیقات میں انکشاف کیا ہے کہ بہت سی گھڑیاں اور ٹیکنالوجی گیجٹس جو صحت کی مانیٹرنگ کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ صارفین میں بے چینی اور غیر ضروری تناؤ کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح، مشہور شخصیات کی جانب سے فروغ دی جانے والی وٹامن ڈرپس اور دیگر غذائی سپلیمنٹس عام انسان کے جسمانی نظام کے لیے کسی بھی سائنسی بنیاد کے بغیر محض ایک کاروباری ہتھکنڈہ ہیں۔
طبی ماہرین طویل عرصے سے یہ تنبیہ کرتے آئے ہیں کہ جسم کو درکار ضروری وٹامنز اور منرلز متوازن غذا کے ذریعے باآسانی حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور اس کے لیے مہنگی گولیوں یا مصنوعی ڈرپس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ ڈاکٹر زینڈ وان تولی کین کا یہ موقف اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ عوام کو مارکیٹ میں موجود جھوٹے اور پرکشش اشتہارات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ صحت کے نام پر فروخت ہونے والے یہ مہنگے خواب نہ صرف انسان کی جیب پر بھاری پڑتے ہیں بلکہ بعض اوقات ذہنی سکون کو بھی غارت کر دیتے ہیں، جس سے صحت بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو سکتی ہے۔