LIVE
Loading Breaking News...

سور کا گردہ اور میڈیکل سائنس کی تاریخ کا انوکھا کارنامہ

News Image
امریکہ کی ریاست نیو ہیمپشائر میں ایک مریض کو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سور کا گردہ لگایا گیا جس نے نو ماہ تک کامیابی سے کام کیا۔ یہ طب کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے جہاں جانور کا عضو اتنے طویل عرصے تک انسانی جسم میں کارآمد رہا۔
امریکہ کی ریاست نیو ہیمپشائر سے تعلق رکھنے والے ایک مریض کو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سور کا گردہ لگائے جانے کا ایک حیرت انگیز اور تاریخی واقعہ سامنے آیا ہے۔ میڈیکل سائنس کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی جانور کا عضو انسانی جسم میں اتنے طویل عرصے تک یعنی پورے نو ماہ تک کامیابی کے ساتھ فعال رہا اور مریض کو ڈائیلاسز جیسے کٹھن مرحلے سے دور رکھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ سور کا عضو بنیادی طور پر ایک عارضی پل کے طور پر استعمال کیا گیا تھا تاکہ مریض کو مزید علاج کے لیے بہتر حالت میں لایا جا سکے۔ طبی ماہرین اس کامیابی کو زینو ٹرانسپلانٹیشن کے شعبے میں ایک بہت بڑا سنگ میل قرار دے رہے ہیں، جس سے مستقبل میں انسانی اعضاء کی قلت کے بحران پر قابو پانے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس آپریشن نے دنیا بھر کے طبی محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، کیونکہ ماضی میں جانوروں کے اعضاء کو انسانی جسم میں قبول کیے جانے کے حوالے سے شدید نوعیت کے مسترد ہونے کے خطرات لاحق ہوتے تھے۔ تاہم، جینیاتی تبدیلیوں کی جدید ٹیکنالوجی نے اس ناممکن کو ممکن بنادیا ہے جس کی بدولت مدافعتی نظام کے ردعمل کو کافی حد تک کنٹرول کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے اس بات کی بھی تائید کی ہے کہ مریض نے اس طویل مدت کے دوران اس عارضی پیوند کاری کے ساتھ معمول کی زندگی گزارنے کی کوشش کی اور گردے نے خون کی صفائی کے فرائض احسن طریقے سے انجام دیے۔ اگرچہ اس نوعیت کے تجربات اور علاج کو وسیع پیمانے پر عام کرنے کے لیے مزید طبی آزمائشوں کی ضرورت ہے، لیکن یہ ابتدائی کامیابی دنیا بھر کے ان لاکھوں مریضوں کے لیے امید کی ایک نئی کرن لے کر آئی ہے جو گردوں کے فیل ہونے کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر اذیت ناک ڈائیلاسز سے گزرتے ہیں۔ طبی برادری اس پیش رفت کو آنے والے دور میں اعضاء کی پیوند کاری کی دنیا کا سب سے بڑا انقلاب تصور کر رہی ہے۔