LIVE
Loading Breaking News...

ناڈین ڈورریز ڈیپ فیک ویڈیو کیس: پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا

News Image
برطانوی سیاستدان ناڈین ڈورریز کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ نازیبا ویڈیوز کے معاملے پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ناڈین ڈورریز نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی سیاست کی معروف شخصیت اور سابق وزیر ناڈین ڈورریز نے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان کی کچھ انتہائی ناازیبا اور جعل ساز ویڈیوز بنائی گئی ہیں، جنہیں دیکھ کر وہ شدید صدمے اور شرمندگی کی حالت میں ہیں۔ دی میل آن سنڈے کی رپورٹ کے مطابق برطانوی پولیس نے اس گھناؤنے سائبر جرم کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اب اس سلسلے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ اس ڈیپ فیک مواد کو تیار کرنے اور پھیلانے میں کون کون سے دیگر افراد ملوث ہیں۔ اس سنگین واقعے کے بعد ٹیکنالوجی کے غلط استعمال بالخصوص مصنوعی ذہانت کے ذریعے بننے والے ڈیپ فیک مواد کے حوالے سے ایک بار پھر عالمی سطح پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اب اتنی ترقی کر چکی ہے کہ کسی بھی شخص کی حقیقی تصویر یا آواز کو مانیٹر کرکے اس کی فرضی اور جھوٹی ویڈیوز یا تصاویر بنائی جا سکتی ہیں، جو معاشرتی اور اخلاقی اقدار کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ناڈین ڈورریز نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ ان کے جاننے والے اور دوست اس قسم کا گھٹیا مواد دیکھ سکتے ہیں۔ حکومتی حلقوں اور سائبر سکیورٹی کے اداروں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈیپ فیک ویڈیوز بنانے اور پھیلانے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے گئے شخص سے تفتیش جاری ہے اور اس بات کا پتہ لگایا جا رہا ہے کہ اس گھناؤنے فعل کے پیچھے کوئی منظم گروہ ہے یا یہ کسی انفرادی شخص کا کام ہے۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے انسداد کے لیے فوری اور مؤثر قوانین نافذ کیے جائیں تاکہ کسی بھی شخص کی عزتِ نفس اور پرائیویسی کو اس طرح پامال ہونے سے بچایا جا سکے۔